اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتمادنمٹا دی گئی

اسپیکرپنجاب اسمبلی پرویزالہی کےخلاف تحریک عدم اعتماد تیکنیکی بنیادوں پرختم کر دی گئی۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 6 جون دوپہر ساڑھے 12بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس پینل آف چئیر مین کی صدارت میں تاخیر سے شروع ہوا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی عدم موجودگی میں شروع ہوا۔ اجلاس میں صرف 26 ارکان اسمبلی موجود تھے۔

اجلاس شروع ہوا تو عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنےکےلئے ن لیگ کےرکن موجود نہیں تھے۔   پینل آف دی چئیرمین نے تحریک کے محرک ایم پی اے سمیع اللہ کی غیر موجودگی پر تحریک عدم اعتماد کو رد کر دیا۔

رولنگ دیتے ہی چئیرمین نے فوری طور پر پنجاب اسمبی کا اجلاس 6 جون دوپہر ساڑھے 12بجے تک ملتوی کر دیا۔

پنجاب اسمبلی کے  اجلاس سے پہلے اسمبلی کے باہر حالات  کشیدہ  رہے۔  حکومت کی جانب سے  اسمبلی کی عمارت کے اطراف  پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا ۔

اجلاس سے قبل  پولیس نے اسمبلی ملازمین  اور صحافیوں کو بھی عماررت کے اندر جانے سے روکے رکھا۔ اسمبلی کے دروازوں پر تالے لگے رہے۔ جنہیں بعد  میں اراکین کے لیے کھولا گیا۔

پنجاب اسمبلی کے آج  کے اجلاس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایجنڈے میں شامل  تھی۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی تھی جبکہ ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک انصاف اور اتحادی جماعت ق لیگ کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں