حکومت کا فلم اینڈ کلچر پالیسی 2018 کی بحالی کا فیصلہ

حکومت نے فلمی صنعت کو ریلیف دینے کیلئے فلم اینڈ کلچر پالیسی 2018 کی بحالی کا فیصلہ کر لیا۔

وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات میں فلم انڈسٹری پر عائد ٹیکس کے خاتمہ کے مطالبے پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی

وزیراطلاعات نے وفد کو فلمی صنعت کی بحالی کے بارے میں اقدامات سے آگاہ کیا اور کہا کہ فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ فلم اینڈ کلچر پالیسی 2018 کو بحال کردیا ہے، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد مرتب تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا، جلد سفارشات تیار کرکے وزیراعظم کو پیش کریں گے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجابی فلم ہمارا قیمتی اثاثہ ، جس پر اس وقت جمود طاری ہے، اس میں پھر جان ڈالیں گے، فلم کو صنعت کا درجہ دے کر اس شعبے کو رعایت دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ  فلموں کی کہانی، معیار، ٹیکنالوجی بہتر بنانا اس قومی پالیسی کا حصہ ہے، فلموں کی شوٹنگ کے لئے اجازت ناموں کو آسان بنائیں گے۔

کین فلم فیسٹیول:پاکستانی فلم جوائےلینڈ نے جیوری پرائز جیت لیا

مزید کہا کہ فلم، ڈرامہ، سٹیج اور فنون لطیفہ ملکی امیج بہتر بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں ، معاشرے سے عدم برداشت اور انتشار کو ختم کرنا ہے،فلم، ڈرامہ اور فنون لطیفہ معاشرے کی ادبی اور تہذیبی زندگی کے روح ہوتے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ معیاری فلموں کی اس وقت بہت ضرورت ہے، فلم انڈسٹری کو ٹیکنالوجی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فلموں کی ایکسپورٹ کی حوصلہ افزائی کریں گے،مشترکہ پروڈکشن کے امکانات کو فروغ دیں گے،فلم سازی کیلئے آلات ومشینری کی درآمد میں حکومت تعاون کرے گ۔

متعلقہ خبریں