بجٹ پیش، ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ، انکم ٹیکس چھوٹ کی حد بڑھا دی گئی

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں نئے مالی سال 23-2022 کا بجٹ پیش کر دیا گیا۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے قومی اسمبلی اجلاس میں نئے مالی سال 23-2022 کا بجٹ پیش کر دیا۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گزشتہ حکومت کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے غریب کی زندگی اجیرن ہو گئی۔ سابق حکومت نے عالمی برادری اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے سامنے بار بار مؤقف تبدیل کیا جس کی وجہ سے سابق حکومت نے عوام  کو مشکلات سے دوچار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کو چلانے کے لیے کم آمدنی والے طبقے کو مراعات دینی ہوں گی۔ حکومت کے پاس وقت بہت کم ہے لیکن ہم مشکل فیصلوں کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں ترقی کا فارمولا برآمدات بڑھانے پر مرکوز کرنا ہو گا۔ تباہ حال معیشت کو درست سمت پر لانے کے لیے چیلنجز درپیش ہیں۔ ہم نے ہمیشہ قومی مفاد کو سیاسی مفاد پر ترجیح دی۔

مفتاح اسماعیل نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت میں وفاقی کی تمام اکائیوں کی نمائندگی ہے۔ غریب کی آمدنی بڑھتی ہے تو مقامی طور پر تیار کردہ اشیا کی خریداری بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں ترقی کا فارمولا برآمدات بڑھانے پر مرکوز کرنا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کا گوادر میں گھریلو صارفین کو سولر پینل دینے کا اعلان

مفتاح اسماعیل نے بجٹ کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ میں وفاقی بجٹ کا کل حجم 9 ہزار 502 ارب روپے مختص کیا گیا ہے جبکہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 808 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ٹیکس محصولات کے لیے 7 ہزار 4 ارب روپے کا ہدف ہے۔ سولر پینل کی درآمد پر ٹیکس زیرو اور سولر پینل کی ڈسٹری بیوشن پر بھی ٹیکس زیرو کر دیا گیا ہے۔ سیونگ سرٹیفکیٹ کے منافع پر ٹیکس 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی کم سے کم حد 6 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ کر دی گئی ہے۔ نان ٹیکس ریونیو 2 ہزار ارب روپے ہوں گے۔ اگلے سال وفاق کے پاس 4 ہزار 904 ارب روپے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے آمدن سے زیادہ خرچ کیا۔ پونے چار سال کے دوران سابق حکومت نے 20 ہزار ارب روپے قرض لیا۔ قرضوں کی سود کی ادائیگی پر 2 ہزار 950 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ رواں سال ریونیو کا ہدف 6 ہزار ارب روپے ہوں گے۔ ریونیو میں 3 ہزار 512 ارب صوبوں اور 3 ہزار 803 ارب وفاقی کا حصہ ہے۔ نان ٹیکس ریونیو 2 ہزار ارب روپے ہوں گے۔

گرانٹ کی صورت میں ایک ہزار 242 ارب روپے خرچ ہوں گے اور گرانٹس بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، بیت المال اور دیگر محکموں کو دی جائیں گی۔ بی آئی ایس پی آر کی رقم 250 ارب روپے سے بڑھا کر 364 روپے کر دی گئی۔

پنشن کی مد میں 530 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور سبسڈی کی مد میں 15 سو 15 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ اس وقت افراط زر 11 اعشاریہ 7 فیصد ہے۔ کل اخراجات کا تخمینہ 9 ہزار 118 ارب روپے ہو گا اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کے اخراجات 550 ارب روپے ہوں گے۔

صنعت و تجارت کے لیے پہلے 3 مہینوں کے دوران 214 ارب روپے اضافی سبسڈی ادا کی۔ صنعت و تجارت کے لیے سبسڈی کی مد میں 570 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔ سابق حکومت نے ایک بھی اکنامک زون نہیں بنایا جبکہ صنعت کا شعبہ کسی بھی ملک کے لیے نہایت ضروری ہے۔ پچھلے 3 سال سے ایکسپورٹرز کو ڈی ایل ٹی ایل کے بقایاجات کی ادائیگی بہت سست رفتار رہی۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پیٹرولیم کے شعبے میں بقایا جات کی ادائیگی کے لیے 248 ارب روپے جاری کیے اور پیٹرولیم کے شعبے میں ادائیگی کے لیے آئندہ مالی سال کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ گیس کے نرخوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

تعلیم پر بات کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے لیے 65 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور ایچ ای سی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 44 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ ایچ ای سی کے بجٹ میں بلوچستان اور ضم شدہ اضلاع کے لیے 5 ہزار وظائف شامل ہیں جبکہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے لیے الگ اسکالر شپ اسکیم شامل ہے۔

انہوں ںے کہا کہ ملک بھر میں طلبا کو ایک لاکھ لیپ ٹاپ آسان قسطوں پر فراہم کریں گے۔

مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ فصلوں اور مویشیوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے 21 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ نوجوانوں میں کاروبار کے فروغ کے لیے 5 لاکھ تک بلاسود قرضے دیئے جانے کی اسکیم کا اجرا کیا جائے گا اور اسکیم کے تحت نوجوانوں کو ڈھائی کروڑ تک آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کی حوصلہ افرائی کے لیے اینویشن لیگ کا آغاز کیا جائے گا۔

قرضہ اسکیم میں خواتین کو ہائی ٹیک اور دیگر اسکلز ترجیحی بنیادوں پر تربیت فراہم کی جائیں گی۔ 11 سے 25 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ اور اسپورٹس ڈرائیو پروگرام بھی تشکیل دیا گیا ہے۔

گرین یوتھ موومنٹ کا آغاز کیا جائے گا اور یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت 20 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع نکالے جائیں گے اور حکومت صنعتوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کرے گی۔ بجٹ میں 250 چھوٹے اسپورٹس اسٹیڈیم بنانے کے لیے بھی رقم رکھی جائے گی۔

یوٹیلٹی اسٹورز سے متعلق بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ یوٹیلٹی اسٹورز پر سبسڈی کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور رمضان پیکیج کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 90 لاکھ خاندانوں کو بی آئی ایس پی کے تحت 266 ارب روپے تقسیم کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر تعلیمی وظائف کا دائرہ ایک کروڑ بچوں تک بڑھایا جائے گا اور بے نظیر تعلیمی وظائف کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بیت المال سے مستحق افراد کے علاج اور امداد کے لیے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

فلم کو صنعت کا درجہ بحال کر دیا گیا ہے اور ایک ارب سالانہ کی لاگت سے فلم فنانس فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ فنکاروں کے لیے میڈیکل انشورنس پالیسی شروع کی جا رہی ہے اور فلم سازوں کے لیے 5 سال کے لیے ٹیکس چھوٹ دی جا رہی ہے۔ 10 سال کے لیے فلم اور ڈرامے کے ایکسپورٹ پر ٹیکس ربیٹ دیا جائے گا جبکہ سینما اور پروڈیوسر کی آمدن کو انکم ٹیکس سےاستثنیٰ دیا جا رہا ہے۔

ایک ارب روپے کی لاگت سے نیشنل فلم انسٹیٹوٹ قائم کیا جا رہا ہے اور پوسٹ فلم پروڈکشن فزیبلٹی اور نیشنل فلم اسٹوڈیو کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ غیر ملکی فلم سازوں کو مقامی سطح پر فلم اور ڈرامہ کے منصوبوں پر ری بیٹ دے رہے ہیں۔ غیر ملکی فلم سازوں پر 70 فیصد مواد کی پاکستان میں شوٹنگ کی شرط لاگو ہو گی۔

ڈسٹری بیوٹرز اور پروڈیوسرز پر عائد 8 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے جبکہ فلم اور ڈراموں کے لیے مشینری، آلات اور سازوسان کی امپورٹ پر کسٹم ڈیوٹی سے 5 سال کا استثنیٰ ہو گا۔ نئی فلم، ڈراموں کے لیے آلات منگوانے پر سیلز ٹیکس صفر اور انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان نے چار سال عوام کے ضائع کیے۔ ہیلی کاپٹر پر آئے اور ہیلی کاپٹر پر واپس چلے گئے لیکن ہماری ترجیح انفراسٹرکچر کی ترقی ہو گی۔ توانائی اور آبی وسائل کے لیے 183 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور ہم نے ماضی میں موٹرویز کو مکمل کیا۔ نجی شعبے کی اشتراک سے شاہراہوں کی تعمیر کو فروغ دیا جائے گا۔

انہوں ںے کہا کہ سماجی شعبے میں متعدد اسکیموں کے لیے 40 ارب روپے رکھے ہیں اور صحت کے شعبے کے لیے 24 ارب روپے مختص کی گئے ہے جبکہ آئی ٹی کے شعبے کے لیے 17 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ زراعت کے شعبے کے لیے 11 ارب روپے مختص کیے گئے۔ صعنت و زرعی پیدوار کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے۔

کراچی میں کے فور منصوبے کے لیے 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ ڈائریکٹ ٹیکس اور انکم اور کیپٹل ویلو ٹیکس پر زیادہ انحصار ہو گا۔ ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور ماہانہ ایک لاکھ روپے تک کمانے والوں کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ ہو گا۔

فائلرز کے لیے ٹیکس کی شرح 2 فیصد اور نان فائلر کے لیے 5 فیصد ہو گی جبکہ 1600 سی سی سے بڑی گاڑی پر ایڈوانس ٹیکس بڑھانے دیا جائے گا۔ نان فائلرز کے لیے گاڑیوں پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح 200 فیصد ہو گا۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی جو کسی دوسرے ملک میں ٹیکس نہیں دیتے وہ پاکستان میں ٹیکس دیں گے جبکہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے باہر رقم بھیجنے والوں کے لیے ایڈوانس ود ہولڈنگ ٹیکس ہو گا۔ باہر رقم بھیجنے والے فائلر کے لیے ایک فیصد اور نان فائلر پر 2 فیصد ٹیکس ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ سولر پینل کی درآمد کو سیلز ٹیکس سے استثنیٰ کی تجویز ہے اور 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کو سولر پینل کی خریداری کے لیے قرضے ملیں گے۔

متعلقہ خبریں