میرا کسی شوگر ملز سے کوئی تعلق نہیں ،میں شئیر ہولڈر نہیں ہوں،شہباز شریف

 وزیر اعظم شہباز شریف نے عدالت میں پیشی کے موقع پر  کہاہے کہ میرا کسی شوگر ملز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں تنخواہ نہیں لیتا، سی ای او نہیں ہوں، شئیر ہولڈر نہیں ہوں۔ نیب میرے خلاف سپریم کورٹ گیا، عدالت نے کرپشن کے ثبوت  مانگے تو دم دبا کر بھاگ گیا۔

اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہورمیں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی۔وزیراعظم شہبازشریف  اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز عبوری ضمانت میں توسیع کے لیے عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ  شریک ملزم ملک مقصود کی خبرمیڈیا پر چل رہی ہے وہ فوت ہو گیا ہے۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ابھی تک ملک مقصود کی وفات کی آفیشل طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ ہم نے تصدیق کے لیے انٹر پول کو لکھا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ملک مقصود کی وفات ہو چکی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ہم پھرملک مقصود کواشتہاری کیسے قرار دیں گے؟  عدالت نے طاہر نقوی اور سلمان شہباز کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دے دیا۔

سماعت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف روسٹرم پر آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ میرا حق میں اپنی ضمانت سے متعلق عدالت کو حقائق بتاوں۔ایف آئی اے کا وہی کیس ہے جو نیب نے بنا رکھا ہے۔ نیب میرے خلاف سپریم کورٹ گیا، اس وقت کے چیف جسٹس نے میری ضمانت منسوخی کی درخواست میں کہا کرپشن کے ثبوت کدھر ہیں، نیب وہاں سے بھی دم دبا کر بھاگ گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ میرے اوپر آشیانہ اور رمضان شوگر مل کیس بنائے گئے ۔ان میں میرا کوئی شئیر نہیں ہے۔میرا کسی شوگر ملز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں تنخواہ نہیں لیتا، سی ای او نہیں ہوں، شئیر ہولڈر نہیں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آشیانہ کیس میں اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا گیا۔میرے کیسز میں لاہور ہائیکورٹ مفصل فیصلہ دے چکی ہے۔جب نیب عقوبت خانے میں تھادو مرتبہ ایف آئی اے نے تحقیقات کیں۔میں نے ایف آئی اے سے کہا کہ وکلا کی مشاورت کے بعد جواب دوں گا، زبانی میں جواب نہیں دوں گا ۔

ان کا کہنا ہے کہ عدالت میں جب ضمانت کا معاملہ گیا تو 4 ججز نے میرے حق میں فیصلہ دیا۔4ججز نے کہا کہ کرپشن منی لانڈرنگ اور بے نامی اثاثوں کے کوئی شواہد نہیں ملے۔میرے لیے عزت کی اور کیا بات ہو گی کہ میرٹ پر بری ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن نے کہا کہ یہ منی لانڈرنگ اور کرپشن کا کیس نہیں ہے۔کیس میں درجنوں پیشیاں بھگتیاں ہیں ، ایک سال تک چالان پیش نہیں کیا گیا۔چالان پیش اس لیے نہیں کیا گیا کہ کہ کسی طرح مجھے گرفتار کر لیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب میں اپوزیشن میں تھا تو نیب اس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ گیا ہی نہیں۔اس عدالت میں کیس ٹرانسفر ہونے سے پہلے درجنوں بار پیش ہوا۔آپ سے پہلے جج نے سختی کی کہ چالان مکمل کیوں نہیں کرتے۔یہ 99 اعشاریہ 99 فیصد وہی الزمات ہیں جو نیب نے لگائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بطور وزیراعظم پاکستان بھی کچھ گزارشات عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔عزت ہی انسان کا خاصہ ہوتا ہے ،اللہ نے وزارت عظمٰی کی ذمہ داری دی۔اللہ سے دعا ہے یہ ذمہ داری خوش اسلوبی سے نبھاؤ ں۔کرپشن ثابت ہوتی تو یہاں کھڑا نہ ہوتا بلکہ منہ چھپا کر کسی جنگل میں پھر رہا ہوتا ۔

 

متعلقہ خبریں