پنجاب کا 2700 ارب حجم کا بجٹ آئندہ ہفتے پیش کیا جائے گا

بجٹ: کونسی چیز سستی اور کونسی مہنگی ہوگی؟

پنجاب کے آئندہ مالی سال کا بجٹ آئندہ ہفتے پیش کیا جائے گا، بجٹ کا مجموعی حجم 2700 ارب سے زائد ہو گا۔

ذرائع کے مطابق بجٹ میں نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا جب کہ سرکاری ملازمین کی پینشن اور تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ وفاق کے مطابق ہی ہوگا۔

پنجاب میں صوبائی محصولات کی چار سو ارب سے زائد، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی مد میں ڈیڑھ ارب سے زائد کا بجٹ مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔

پنجاب حکومت وفاق سے واجب الادا رقم کی مد میں ایک سو بیس ارب روپے کی رقم وصول کرے گی۔  تعلیم کی مد میں چار کھرب پندرہ ارب پچپن کروڑ کا فنڈز مختص کرنے کی سفارشات ہیں۔

بجٹ 23-2022: تعلیم پر 109 ارب اور صحت پر 24 ارب روپے مختص

دوسری جانب صحت کے لئے تین کھرب کا فنڈ،،پنجاب پولیس کے لئے ڈیڑھ کھرب، ایوان وزیراعلی پنجاب کے اخراجات کے لئے اسی کروڑ، گورنر پنجاب کے سیکریٹریٹ کے لئے اٹھاون کروڑ، عوامی ریلیف پیکج کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ایک ارب اکتیس کروڑ، شعبہ ذراعت کے لئے اڑتیس ارب کا نان ڈویلپمنٹ فنڈ،خواتین کی ترقی کے لئے وومن ڈویلپمنٹ کو سینتیس کروڑ کا بجٹ دینے کی تجویز دی گئی ہے،بجٹ کا دوسرا مسودہ ایوان وزیراعلی کو پیش کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ کا پہلا مسودہ ایوان وزیراعلی نے مسترد کر دیا تھا۔ بجٹ تقریر کے لئے لیگی ایم پی میاں مجتبی شجاع الرحمٰن کو ذمہ داری دئے جانے کا امکان ہے۔

 

متعلقہ خبریں