ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ ایشیا کی بدترین کرنسی قرار

بجٹ: سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ

پاکستانی روپیہ 2022 میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریبا 16.5 فیصد کی کمی کے ساتھ ایشیا کی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسی قرار پائی ہے۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بیل آؤٹ پروگرام کی بحالی میں طویل تاخیر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی سے ملکی معیشت پربہت برا اثر پڑا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق صرف 8 جون کے بعد ڈالر کے مقابلے میں روپے میں 5.1 فیصد کمی آئی ہے جس کی وجہ سے یہ جاپانی ین، جنوبی کوریائی وون اور بنگلہ دیش ٹکا سمیت 13 دیگر ممالک کی کرنسیوں کی فہرست میں سب سے آخر میں ہے۔

پاکستان نے کم بے روزگاری کی شرح میں جنوبی ایشیائی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا

بزنس ریکارڈر کے مرتب کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی کرنسی کے بعد ین (15 فیصد کمی)، وون (8.1 فیصد) اور ٹکا (7.22 فیصد) کمی کے ساتھ ایشیا کی بدترین کرنسی قرار پائی ہیں۔

ایشیا کی بہترین کرنسیاں جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں سب سے کم قیمت کھو چکی ہیں وہ ہانگ کانگ ڈالر، سنگاپور ڈالر اور انڈونیشیا کے روپیہ تھیں۔

متعلقہ خبریں