ایم کیو ایم کا سکھر،میرپور خاص اور نواب شاہ میں بلدیاتی الیکشن روکنے کامطالبہ

 ایم کیو ایم نے سکھر،میرپور خاص اور نواب شاہ میں الیکشن روکنے کا  مطالبہ کردیا۔

رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر کا کہنا ہے کہ 14اضلاع میں اس وقت دھاندلی کا بازار گرم ہے۔ الیکشن کمیشن کے ساتھ ذمہ داری پیپلزپارٹی پر بھی عائد ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن ہمارے خدشات کا نوٹس لیں۔  ہم نہیں چاہتے الیکشن کمیشن پر انگلیاں اٹھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہاں خوف پھیلا ہوا ہے ایسے میں صاف شفاف الیکشن نہیں ہو سکتا۔حلقہ بندی میں جو دھاندلی ہوئی سو ہوئی۔ووٹرز لسٹیں تبدیل کردی گئی ہیں۔کہیں کہیں پر دو ووٹر لسٹیں ہیں۔ہماری چیف الیکشن کمشنر سےدرخواست ہے کہ ووٹرز لسٹوں اور حلقہ بندی کو صحیح کریں۔

یہ بھی پڑھیں:بلدیاتی انتخابات پر تحفظات،چیف الیکشن کمشنر کی ایم کیو ایم وفد کو ملاقات کی دعوت

ایم کیوایم  نےوفاقی حکومت سےمعاہدے پرپیش رفت نہ ہونے پر بھی ناراضی کا اظہار کردیا۔ وسیم اختر نےکہاکہ  ہماری وجہ سےوزیراعظم وزیراعلی بنے،سب مزے سےبیٹھے ہیں۔  لیکن معاہدے پرکوئی پیش رفت نہیں ہورہی۔ وزیراعظم  سےمطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت سےہمارے معاملات آگے نہیں بڑھ رہے جس کےبعد انہوں نے کمیٹی بنادی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت ابھی بھی اختیارات نیچے دینے میں ہچکچا رہی ہے ۔بلدیاتی نظام کا مسودہ اب بن گیا ہے تو اسے قانون کی شکل دیں۔آصف زرداری سے گزارش ہے کہ ہماری باتوں کو سنجیدہ لیں ۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگرسندھ بلدیاتی ایکٹ نہیں بنتا توکسی چیزمیں حصہ نہیں لیں گے اوررابطہ کمیٹی کےذریعے اپنا بہترفیصلہ کرنےپرمجبورہوں گے۔

 

متعلقہ خبریں