سندھ: بلدیاتی انتخابات، جی ڈی اے اور جے یو آئی نے مسترد کردیے، دھرنوں کا اعلان

سندھ: بلدیاتی انتخابات، جی ڈی اے اور جے یو آئی نے مسترد کردیے، دھرنوں کا اعلان

لاڑکانہ: سندھ میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کو گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) اور جمعیت العلمائے اسلام (ف) نے مسترد کرتے ہوئے احتجاجی دھرنے دینے کا اعلان کردیا ہے۔ احتجاجی دھرنے کل سندھ کے 14 اضلاع میں الیکشن کمیشن کے دفاتر پر دیے جائیں گے۔

پی ٹی آئی کا بلدیاتی الیکشن کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ: سپریم کورٹ جانیکا اعلان

ہم نیوز کے مطابق جی ڈی اے رہنما ڈاکٹر صفدر عباسی اور جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا راشد محمود سومرو نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ روز ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو یکسر مسترد کردیا۔

جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو نے کہا کہ میں برسوں سے جس پولنگ اسٹیشن پر ووٹ دیتا آ رہا ہوں، اس مرتبہ وہاں ووٹر لسٹ میں میرا نام ہی درج نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ کل کے بلدیاتی انتخابات بدترین دھاندلی اور تشدد زدہ تھے، کل ہماری یونین کمیٹی میں رات 10 بجے تک ٹھپے بازی کی گئی، ہمارے امیدوار کے خلاف انسداد دہشت گردی کے دو مقدمات بھی درج کیے گئے۔

مولانا راشد سومرو نے کہا کہ پہلے مرحلے میں جے یو آئی پونے سات لاکھ ووٹوں اور ڈھائی سو سے زائد نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی ہے اور 14 اضلاع میں دوسرے نمبر پر آئی ہے مگر اس کے باوجود نتائج مسترد کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ حالات دیکھنے کے بعد ایم کیو ایم اور جی ڈی اے سمیت دیگر جماعتوں سے مشاورت شروع کر دی ہے، ہوسکتا ہے کہ دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے بائیکاٹ کا اعلان کریں۔

حالات نہیں بگاڑنا چاہتے، پیپلزپارٹی ہمارے مینڈیٹ کو تسلیم کرے، وسیم اختر

جے یو آئی (ف) کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نوٹس لیں کہ پیپلز پارٹی نے اتحادیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے اگر پی پی کے کردار کا نوٹس نہیں لیا تو ہمیں اتحاد کی بیساکھی واپس لینا پڑے گی۔

مولانا راشد سومرو نے مولانا فضل الرحمان سے درخواست کی کہ وہ سندھ کی صورتحال کا جائزہ لے کر حکومتی اتحاد سے نکلنے کا فیصلہ کریں، ہمارے کارکن مار کھائیں، کھلے عام دھاندلی ہو اور ہم حکومت کے اتحادی بھی رہیں ایسا ممکن نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کی سی ای سی کا اجلاس جلد طلب کیا جائے گا جس میں سندھ حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

ہم نیوز کے مطابق مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جی ڈی اے رہنما ڈاکٹر صفدر عباسی نے کہا کہ
الیکشن کمیشن دوبارہ تیاری کرکے صاف و شفاف الیکشن کروائے، پہلے مرحلے کے بلدیاتی الیکشن دھاندلی زدہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ سے حلقہ بندیاں دوبارہ کرنے کی درخواست کی تھی، سپریم کورٹ نے بھی حلقہ بندیاں دوبارہ کرنے کا کہا تھا لیکن الیکشن کمیشن کے بیان پر بلدیاتی انتخابات ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ووٹرز لسٹوں میں شدید غلطیاں تھیں جو الیکشن کمیشن کی تیاری مکمل نہ کرنے کی عکاسی کررہا تھا، نااہل اور جانبدار ریٹرننگ افسران مقرر کیے گئے جن کا مشن حکومتی پارٹی کو کامیاب کروانا تھا۔

سندھ میں بلدیاتی انتخابات: ہنگامہ آرائی، پرتشدد واقعات، 2 افراد جاں بحق ، متعدد زخمی

ہم نیوز کے مطابق ڈاکٹر صفدرعباسی نے کہا کہ ریٹرننگ افسران نے ہمارے امیدواران کو بلاوجہ نااہل کیا، فارم 11 ہر ایجنٹ کو دینا تھا لیکن وہ کسی کو نہیں دیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے ساتھ پولیس کی گاڑیوں کا پروٹوکول تھا جو سمجھ سے بالاتر ہے، رینجرز اور فوج کے بغیر الیکشن صرف اور صرف دھاندلی کے لیے کروائے گئے جنہیں ہم مسترد کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں