پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا فیصلہ 30 جون کو، اسٹیل ملز اور پی آئی اے کوئی ایک روپے میں خرید لے تو فائدے مند ہے: مفتاح اسماعیل

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ مجھے وزیر خزانہ بنانے کا فیصلہ نواز شریف کا تھا، وزیراعظم نے جو ذمہ داری دی وہ بنھا رہا ہوں، اتحادی بھی میری حمایت کرتے ہیں، خواجہ آصف، ایاز صادق اور شاہد خاقان عباسی میرے سپورٹر ہیں۔

ہار ماننے والا نہیں، مخلوط حکومتیں مسائل کا حل نہیں، مزید مہنگائی ہو گی: عمران خان

ہم نیوز کے پروگرام ’ہم مہر بخاری کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مجھے بجٹ بنانے اور آئی ایم ایف سے بات کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، جب حکومت سنبھالی تو بہت مشکلات تھیں، پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانا تھا وہ ہم نے کیا، تاریخ کہے گی کہ مفتاح اسماعیل نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ کیا تو میری اور اسحاق ڈار کی رائے مختلف تھی، اسحاق ڈار کیا چاہ رہے ہیں یہ وہی بتا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر مشکل فیصلے کئے، وزیراعظم تو میرے ساتھ آنے والے کافی دنوں کے پلان بنا رہے ہیں، پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا فیصلہ وزیراعظم 30 جون کو کریں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ میں سیلز ٹیکس بڑھانے کے حق میں نہیں ہوں، میں نے شہباز شریف کے بیٹوں کی کمپنیوں پر ٹیکس لگایا ہے، میں نے اپنی کمپنی پر بھی ٹیکس لگا یا ہے، 10 فیصد ٹیکس سے مشکلات ہو سکتی ہیں لیکن ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا تھا۔

مہنگائی سے تنگ عوام کیلئے اب دالوں کا حصول بھی مشکل

ایک سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پی آئی اے کے حوالے سے دوست ممالک سے بات کی ہے، اگر دوست ممالک نے پی آئی اے نہ خریدی تو کچھ اور سوچیں گے، اسٹیل ملز اور پی آئی اے اگر کوئی ہم سے ایک روپے میں خرید لے تو بہت فائدہ مند ہے، انہیں کوئی نہیں خریدے گا کیونکہ ان کی ایکویٹی مائنس میں چل رہی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت اسٹیل ملز کا مسئلہ زیادہ اہم ہے، اسٹیل ملز پر 2 روز پہلے بھی اجلاس کیا تھا، انہیں کام کرنے کو کہا ہے، 19 ہزار میں سے ساڑھے 4 ہزار ایکڑ اراضی لیز پر دے رہے ہیں، اسٹیل ملز کی جو اصل جگہ ہے اسے الگ کر رہے ہیں، اسٹیل ملز کا قرض کسی اور کمپنی پر منتقل کر رہے ہیں، ہم اس سال کے آخر تک کچھ نہ کچھ  پرائیویٹائز ضرور کریں گے۔

ن لیگی رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 40 ڈالرز کی ایل این جی آر ہی تھی، ہمارے دور میں ایل این جی 10،12 ڈالرز کی تھی، مجھے اس چکر میں جیل بھیجا گیا جو آج ہماری پہنچ میں نہیں، آج کل ایل این جی کی مارکیٹ میں قلت ہے، تین مہینوں میں ہمیں تھوڑی سی کامیابی ملی ہے۔

بجلی صارفین کے لئے بری خبر، بجلی8 روپے فی یونٹ مہنگی

ہم نیوز کے پروگرام ہم مہر بخاری کے ساتھ میں بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال کی نسبت امپورٹ کو 15 فیصد کم کیا ہے، ہم ایل این جی پر کام کر رہے ہیں، شاید ایل این جی کی خریداری کیلئے اہل ہونے میں کچھ ہفتے لگ جائیں، ایل این جی کی امپورٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے پریشان ہوں، ایل این جی کا والیم نہیں پیسے بڑھ رہے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم نے امیروں پر ٹیکس لگانے کی کوشش کی ہے، آئی ایم ایف نے ہمیں کہا کہ خرچے کو 2200 ارب روپے کم کرو، یہ بہت مشکل تھا۔

متعلقہ خبریں