کراچی، لوڈ شیڈنگ کیخلاف ماڑی پور اور ملیر میں احتجاج ، جھڑپیں، خاتون جاں بحق،کئی افرادزخمی

کراچی: شہر قائد میں ہونے والی لوڈ شیڈنگ کے خلاف ماڑی پور میں 22 گھنٹے احتجاج کیا گیا، مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں پولیس اہلکار سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے جب کہ ایک خاتون جاں بحق ہو گئیں۔ لوڈ شیڈنگ کے خلاف سعود آباد، ملیر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

کراچی:بجلی بندش کےخلاف احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، لاٹھی چارج اور پتھراو

ہم نیوز کے مطابق پیر کی شام ساڑھے چار بجے شروع ہونے والا احتجاج منگل کی شام پانچ بجے تک جاری رہا، احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے شیلنگ و لاٹھی چارج کیا گیا، مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، ٹریفک کی بندش کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

احتجاج کے دوران خاتون کے جاں بحق ہونے پر ایس پی سٹی علی مردان کھوسو نے کہا ہے کہ لیاری کی رہائشی خاتون کا طبعی طور پرانتقال ہوا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق خاتون سے متعلق مزید معلومات لے رہے ہیں۔

لوڈ شیڈنگ کے خلاف ہونے والے 22 گھنٹے طویل احتجاج کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا اور پولیس نے ٹریفک کے لیے بند سڑکیں رکاوٹیں ہٹا کر کھول دیں۔

ہم نیوز کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف ہونے والے احتجاج کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیر توانائی کو ہدایت کی کہ وہ شہر میں بجلی بحران پر قابو پانے کے لیے کے الیکٹرک سے بات کریں۔

2جولائی کو احتجاج کریں گے، کراچی، لاہور اور پشاور سمیت دیگر شہروں میں بھی لوگ نکلیں، عمران خان

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی لوڈ شیڈنگ شہر میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر رہی ہے، کے الیکٹرک اپنے سسٹم کو درست کرے، عوام مزید کتنی تکلیف برداشت کریں گے؟

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہدایت دی کہ شہر میں بجلی کے بحران پہ فوراً قابو پایا جائے اور سسٹم کو درست کیا جائے۔

ہم نیو ز کے مطابق شہر قائد میں ہونے والی بدترین لوڈ شیڈنگ کے خلاف ماڑی پور کے بعد سعود آباد، ملیر میں بھی احتجاج شروع ہو گیا ہے۔

بدنصیب کراچی کا نمائندہ ہوں، زرداری کی سوچ انکی جماعت کے نیچے لوگوں میں منتقل نہیں ہوتی: کنور نوید

احتجاجی مظاہرین نے سڑکوں پہ رکاوٹیں لگا کر ٹریفک کی آمد و رفت بند کردی ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ علاقہ پولیس احتجاجی مظاہرین سے بات چیت کے لیے پہنچ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں