اسرائیلی پارلیمان کی تحلیل اور نئے انتخابات کرانے کا بل منظور

چار سال میں پانچویں بار انتخابات، اسرائیلی پارلیمنٹ کی تحلیل سے متعلق قانون متفقہ طورپر منظورکر لیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں چار سال سے بھی کم عرصے میں پانچویں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی قیادت میں حکمران جماعت اورسابق وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت میں حزب اختلاف کے ارکان گذشتہ ہفتے سے اسرائیلی پارلیمان کی تحلیل کے بل پرمباحثہ کر رہے تھے۔

حکمران اتحاد کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ ہفتے وزیراعظم بینیٹ کے اعلان کے بعد اس قانون کی فوری منظوری چاہتا ہے کیونکہ اس کا ایک سال پرانا، نظریاتی طور پر منقسم آٹھ جماعتی اتحاد اب قابل عمل نہیں رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی لبنان کو جنگ کی دھمکی

تاہم نیتن یاہو اور ان کے اتحادی موجودہ پارلیمان میں ہی نئی حکومت تشکیل دینا چاہتے تھے، جس سے نئے انتخابات کا امکان ختم ہوجاتا، اوراس طرح نیتن یاہو ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بن جاتے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

پارلیمنٹ کی ہاؤس کمیٹی کی بل کو منظوری دینے کے بعد اسے اس کو پہلی خواندگی کے لیے ایوان میں پیش کیا گیا جسے 53-0 سے  منظور کرلیا۔

بل کے مطابق پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد نئے انتخابات 25 اکتوبر یا یکم نومبر کو ہوں گے۔ لیکن مذاکرات کے بعد انتخابات کی حتمی تاریخ مقرر کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں