عمران خان کا لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان


پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ کل لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے وکلا سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کیسے دوبارہ وزیراعلیٰ بن سکتا ہے، اس سیٹ اپ کو مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر کسی کو اعتبار نہیں، مسائل کا حل آزادانہ اور شفاف انتخابات ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میرا ذہن تسلیم نہیں کرتا تھا کہ یہ شہباز شریف کو وزیراعظم بنا دیں گے، سوچتا تھا کیا آصف زرداری پھر سے اقتدار میں آ جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ ان پر کرپشن کے اتنے کیسز ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کس پر بات کریں، شہبازشریف کو تو سزا ہونے والی تھی۔

عمران خان نے کہا کہ رجیم چینج کیخلاف انکوائری اس ملک کیلئے ضروری ہے،ان کا مفاد یہ ہے کہ پاکستان میں جی حضوری والے لوگ آئیں،اگر ملک کو تباہ کرنا ہو تو اس طرح کے چور بٹھا دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مہنگائی کا ذمہ دار ہمیں ٹھہراتے ہیں تو حکومت کیوں تبدیل کی، چوروں کا ٹولہ ملک کے تمام اداروں کو تباہ کردے گا،ان کو اوپر رکھنے کے لیے قانون کی حکمرانی بھی تباہ ہو رہی ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ سندھ الیکشن میں جو کچھ ہوا ہے وہ ایم کیو ایم اور جے یو آئی سے پوچھیں، پنجاب کے20حلقوں کے ضمنی الیکشن میں مداخلت ہو رہی ہے،ہمارے 2امیدواروں کو نامعلوم نمبر سے کال کر کے کہا گیا پی ٹی آئی کا ٹکٹ نہ لیں۔

پنجاب کیخلاف عمران خان کے جرائم کی فہرست طویل ہے، مریم نواز

اس سے پہلے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار کا دعوت دینے پر شکریہ ادا کرتا ہوں ، کسی بھی جمہوریت میں میڈیا پر اتنا پریشر نہیں ڈالا گیا جتنا آج ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام آزادی چاہتی تھی اس لئے پاکستان بنا، قائد اعظم اور علامہ اقبال نے آزادی کے لئے جدوجہد کی، قائد اعظم نے اس وقت بھانپ لیا تھا کہ بھارت مودی کا بن جائیگا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے رحمت العالمین اتھارٹی بنائی تاکہ ہمارے بچوں کو پاکستان بننے کی وجہ پتہ چلے، ریاست مدینہ انقلاب تھا، مدینہ کی ریاست نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ زمانہ جہالت میں چھوٹے چوروں کو سزا ملتی اور بڑے چوروں کو این آر او مل جاتا، غریب ممالک کے مزید غربت میں جانے کی وجہ 17 سو ارب ڈالرز سالانہ  چوری ہے۔غریب ممالک سے پیسہ چوری ہوکر امیر ممالک میں چلا جاتا ہے،این آر او لینے والا ملک تباہ ہوجاتا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ لندن میں والدہ کو علاج کے لئے لیکر گیا تو پہلی بار فلاحی ریاست دیکھی، جہاں سے میری والدہ کا پیسے دیکر علاج ہوا وہیں غریبوں کا مفت علاج ہورہا تھا، اسپتال کا عملہ پیسے دیکر علاج کرانے اور مفت علاج کرانے والوں میں کوئی تفریق نہیں کرتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اشرافیہ کے پاس سہولیات ہیں غریبوں کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں۔

بیرونی سازش پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ امریکیوں نے کہا کہ عمران خان کو فارغ نہ کیا تو سنگین نتائج ہوں گے۔ مراسلہ جب پہلی بار پڑھا تو بار بار پڑھا کہ یہ کسی آزاد ملک کو کوئی کیسے کہ سکتا ہے۔ میں حیران تھا کہ امریکی کس کو حکم دے رہے ہیں ہمیں ہٹانے کا، امریکی مراسلے کے بعد لوٹوں کو مہنگائی یاد آ گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ 3 دوست ممالک نے پیسے دیئے جس سے حالات بہتر ہوئے، ہمارے حکومت کے پہلے 2 سال مشکل تھے کورونا نے معیشت متاثر کی، لاک ڈاؤن نہ لگا کر معیشت بچائی، آئی ایم ایف سے بات کرکے ٹیکس کم کرائے عوام کو سہولت دی، حکومت کے تیسرے سال سے حالات بہتر ہونے شروع ہوگئے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے دور میں گروتھ ریٹ 6 فیصد تھی، شوکت ترین کے ذریعے نیوٹرلز کو پیغام بھجوایا معیشت تباہ ہوجائیگی۔

متعلقہ خبریں