مقامی وسائل سے بجلی بنانے کی پالیسی تشکیل دینے کیلئے اجازت طلب

مقامی وسائل سے بجلی بنانے کی پالیسی تشکیل دینے کیلئے اجازت طلب

اسلام آباد: بجلی بنانے کیلئے مقامی وسائل استعمال کرنے سے متعلق پالیسی بنانے کی اجازت طلب کر لی گئی ہے۔ اجازت وفاقی وزارت توانائی نے مانگی ہے۔

پنجاب حکومت کا 100 یونٹ استعمال کرنے والے گھریلوں صارفین کو مفت بجلی دینے کا اعلان

ہم نیوز کے مطابق وفاقی وزارت توانائی نے وزیراعظم میاں شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں تجویز پیش کی کہ بجلی بنانے کیلئے امپورٹڈ ایندھن کے بجائے مقامی وسائل کو استعمال کیا جائے۔

وزیراعظم میاں شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا تمام ایجنڈہ بھی منظور کر لیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی کابینہ کو لوڈ مینجمنٹ پلان پر بریفنگ دی گئی، ایس ای سی پی کےآڈٹ کیلئے آڈیٹرز کی تقرری کی منظوری دی گئی، اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 13 جون کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کابینہ کی لیجسلیٹو کمیٹی کے 29 جون کے فیصلوں کی توثیق کی گئی اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے فیصلوں کی بھی توثیق کردی گئی۔

کراچی والوں کیلئے بری خبر ! بجلی 9 روپے 66 پیسے مہنگی کرنے کی منظوری

اجلاس میں لالہ موسی اور دیگر شہروں میں گیس کی بچھائی گئی لائنوں کو چلانے کا مطالبہ کیا گیا اور توانائی کے تاخیری منصوبوں کی بابت آگاہی فراہم کی گئی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کو دوران بریفنگ حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ پاکستان کے امپورٹ بل کا 60 فیصد خرچ باہر سے بجلی بنانے کے لیے تیل منگوانے پر ہوتا ہے۔

عید الاضحیٰ پر لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی، نہیں کہہ سکتے، وفاقی وزیر توانائی

شرکائے اجلاس کو زیر تکمیل تاخیری منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے آگاہ کیا کہ پنجاب تھرمل منصوبہ 26 ماہ کی تاخیر کا شکار رہا، تھر انرجی 17، تھل نووا بیس شنگھائی الیکٹرک پاور میں60 ماہ کا تعطل آیا اور کروٹ 10 ماہ کے تعطل کا شکار ہوا۔

متعلقہ خبریں