ضمنی انتخابات: پاک فوج اور رینجرز کے علاوہ فرنٹیر کانسٹیبلری بھی تعینات کرنیکا فیصلہ

اسلام آباد: ضمنی انتخابات کے دوران قیام امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پاک فوج اور رینجرز کے علاوہ فرنٹیر کانسٹیبلری بھی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل سستا ہونے پر بڑے عرصے بعد چین کی نیند سوئی، مریم نواز

ہم نیوز کے مطابق اس بات کا فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی زیر صدارت منعقدہ خصوصی اجلاس میں کیا گیا جس میں وفاقی سیکریٹری داخلہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر داخلہ کی زیر صدارت منعقدہ خصوصی اجلاس میں 17 جولائی کو منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران قیام امن و امان کو یقینی بنانے حوالے سے کیے جانے والے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کے مراسلے پہ غور کیا گیا اور ضمنی انتخابات کے دوران حساس انتخابی حلقوں میں سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری متعین کرنے کا جائزہ لیا گیا۔

عمران خان پر آرٹیکل 6 لگانے کی جرات کسی کا باپ بھی نہیں کر سکتا، شیخ رشید

شرکائے اجلاس نے 17 جولائی کے ضمنی انتخابات کے دوران حلقوں میں سیکیورٹی انتظامات پراظہار اطمینان کیا اور قیام امن و امان کو یقینی بنانے اور الیکشن کے لیے ساز گار ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے متعدد اہم فیصلے کیے۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی زیر صدارت منعقدہ خصوصی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضمنی انتخابات کے دوران قیام امن امان کیلئے پاک فوج اور رینجرز کے علاوہ فرنٹیر کانسٹیبلری تعینات کی جائے گی، پنجاب اور سندھ کے ضمنی انتخابات کے دوران تمام حلقوں میں آتشی اسلحہ کی نمائش پرمکمل پابندی ہو گی، آتشی اسلحہ پر پابندی کے احکامات کی خلاف ورزی پرفوری گرفتاری عمل میں لائی جائے گی، اسلحہ کی ضبطگی ہو گی اور لائسنس بھی منسوخ کردیا جائے گا۔

اجلاس میں انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر شرپسند عناصر کی ضمنی انتخابات کے حلقوں میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

لوٹوں کو بلوں سے پھینٹا لگتے دیکھیں گے، 1100 ارب چوروں کو ہضم کرنے نہیں دونگا، عمران خان

ہم نیوز نے اس ضمن میں بتایا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کی زیر صدارت منعقدہ خصوصی اجلاس میں گجرات سے لاہور میں لائے گئے 300 اسلحہ بردارافراد کے حوالے سے پیش کی جانے والی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ مسلح افراد کے ضمنی الیکشن کے دوران امن وامان پراثر انداز ہونے کے باعث پیشگی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضمنی انتخابات کے دوران امن وامان کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کرنے کے لیے وفاقی وزارت داخلہ میں خصوصی کنٹرول روم قائم کیا جائے گا۔

کسی مسٹر ایکس، وائی، زیڈ کو نہیں جانتے، ہمارا کام شفاف الیکشن کرانا ہے، ترجمان الیکشن کمیشن

ن لیگ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر داخلہ نے وفاقی سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ اجلاس میں کیے جانے والے تمام فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

رانا ثنا اللہ نے خصوصی اجلاس کے شرکا سے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی انتخابات میں امن وامان کی صورتحال کو یقینی بنانا ہماری قومی ذمہ داری ہے، وفاقی وزارت داخلہ کے زیرانتظام سول آرمڈ فورسز امن وامان کے لیے سندھ اور پنجاب کی مکمل معاونت کریں گی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پنجاب کے چھ انتہائی احساس حلقوں میں سیکیورٹی کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی، انتہائی حساس انتخابی حلقوں میں لاہور کے چار ،بھکر اور ملتان کا ایک ایک حلقہ شامل ہے۔

الیکشن کمیشن نے 40 لاکھ زندہ افراد کا انتقال کروا دیا، یاسمین راشد کا الزام

ہم نیوز کے مطابق رانا ثنا اللہ نے خصوصی اجلاس میں کہا کہ ضمنی انتخاب کے حلقوں میں شرپسند عناصراوراسلحہ بردارافراد کی موجودگی کسی صورت قبول نہیں ہے اور صوبائی حکومتیں و قانون نافذ کرنے والے ادارے آتشی اسلحہ پر عائد کردہ پابندی پہ سختی سے عمل دآمد یقینی بنائیں۔

متعلقہ خبریں