پی پی 158 پر ہنگامہ، متعدد زخمی،گرفتاریوں کا حکم، الیکشن کمیشن کا نوٹس

لاہور: پنجاب کے ضمنی انتخاب کے دوران پی پی 158 کی نشست پر ہنگامہ آرائی میں مختلف سیاسی کارکنان زخمی ہو گئے۔ وزیر داخلہ نے جمشید اقبال چیمہ اور سعید مہیس کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔

پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 158 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 35 کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں میں جھگڑا ہوا۔ اس دوران دونوں جماعتوں کے متعدد کارکن زخمی ہو گئے۔

رینجرز اور پولیس اہلکاروں نے پولنگ اسٹیشن پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کیا۔

الیکشن کمیشن نے پی پی 158 میں کارکنوں کے جھگڑے کا نوٹس لے لیا جبکہ وزیر داخلہ پنجاب نے جمشید اقبال چیمہ اور سعید مہیس کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ضمنی انتخاب، اسلحہ کی نمائش پر 6 ماہ قید بھگتنا ہو گی

وزیر داخلہ پنجاب عطا تارڑ نے کہا کہ پی پی 158 میں جھگڑے کا فوری نوٹس لے لیا گیا ہے اور کسی کو امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ جمشید چیمہ اور سعید مہیس نے تشدد کر کے لیگی کارکن کا سر پھاڑ دیا جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار احسن شرافت پر امن رہے۔

دوسری جانب مظفر گڑھ میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 272 پر بھی مسہ سندیلہ پولنگ اسٹیشن پر 2 سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھگڑا ہوا۔ پولیس نے پیپلز پارٹی کے سابق امیدوار صوبائی اسمبلی جمیل شاہ کو حراست میں لے لیا۔

ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ نے کہا کہ پولنگ اسٹیشنز پر بدنظمی برداشت نہیں کی جائے گی۔

اس کے علاوہ مظفر گڑھ کی نشت 272 پر ہی پی ٹی آئی کارکن کی مبینہ گرفتاری پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا اور متعلقہ ڈی آر او،آر او اور مانیٹرنگ آفس سے رپورٹ طلب کر لی۔

متعلقہ خبریں