چودھری شجاعت نے عمران خان کے امیدوار چودھری پرویز الٰہی کی حمایت سے انکار کردیا

چودھری شجاعت نے عمران خان کے امیدوار چودھری پرویز الٰہی کی حمایت سے انکار کردیا

لاہور: سابق وزیراعظم اور ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے امیدوار برائے وزارت اعلیٰ پنجاب کی حمایت کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار چودھری پرویز الٰہی ہیں۔

حمزہ شہباز یا پرویز الہی؟ کون ہو گا تخت لاہور کا حکمران، اجلاس شروع

ہم نیوز کے مطابق ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے پی ٹی آئی کے امیدوار کی حمایت کرنے سے انکار سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات کرنے کے بعد کیا۔

اس ضمن میں ہم نیوز نے ذمہ دار ذرائع سے بتایا ہے کہ سابق صدر پاکستان آصف زرداری سے ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے ٹیلی فون پر بات کی جس کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر چودھری شجاعت حسین سے ملاقات کرنے کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچے جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان مختصر صلاح و مشورہ ہوا۔

منڈی لگی ہوئی ہے، پرویز الٰہی سب جگہوں پر ٹھیک ہیں، سب مینج کر لیں گے، شیخ رشید

سابق صدر آصف زرداری کی سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہ آمد سے قبل ق لیگ کے ان کارکنان کی جانب سے جو چودھری پرویز الٰہی کے حامی ہیں، احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیا جو تاحال جاری ہے۔

ہم نیوز کے مطابق مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام کی جانب سے سابق وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی اضافی اور بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔

یاد رہے کہ چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہ چودھری ظہور الٰہی روڈ پہ واقع ہے جو ان کے والد کے نام سے منسوب ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی نشست کے لیے پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار چودھری پرویز الٰہی کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ روز پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ چودھری پرویز الٰہی وزارت اعلیٰ کے لیے ہمارے امیدوار ہیں۔ اجلاس ساجد بھٹی کی زیرصدارت منعقد ہوا تھا۔

مونس الٰہی نے کہا کہ پرویزالہیٰ کو صرف عمران خان کا وزیراعلیٰ بننا ہے، پرویزالہیٰ کو ن لیگ یا ان کے اتحادیوں کا وزیراعلیٰ نہیں بننا۔

پنجاب اسمبلی اجلاس میں تاخیر، پی ٹی آئی کا توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی آصف زرداری کی چودھری شجاعت حسین سے ملاقات کے دو طویل ادوار ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں