مسلم لیگ ق کے ووٹ شمار ہونے چاہیےیا نہیں؟قانونی ماہرین کی رائے کیا؟

ڈپٹی اسپیکر پنجاب کی رولنگ پر ماہرین نے ملی جلی رائے کا اظہار کیا ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کےفیصلےکےمطابق ووٹ شمارنہیں ہوگا۔کچھ نےکہاکہ ممبران نے کس کو ووٹ دینا ہے کس کو نہیں دینا، آئین میں لکھے گئے الفاظ کے مطابق اس کا فیصلہ ’پارلیمانی پارٹی‘ کرے گی۔

سابق اٹارنی جنرل اور ماہر قانون عرفان قادر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر پارٹی سربراہ کی ہدایت کے برعکس کوئی ووٹ دے گا تو وہ ممبر ناصرف ڈی سیٹ ہوگا بلکہ اس کا ووٹ بھی شمار نہیں کیا جائے گا۔

پلڈاٹ کے سربراہ اور پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے میں ’پارلیمانی پارٹی‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں نا کہ ’پارلیمانی پارٹی سربراہ‘ یا ’پارٹی ہیڈ‘ کے۔

انہوں نے کہاہے کہ ’ممبران نے کس کو ووٹ دینا ہے کس کو نہیں دینا، آئین میں لکھے گئے الفاظ کے مطابق اس کا فیصلہ ’پارلیمانی پارٹی‘ کرے گی۔ اگر الیکشن کمیشن کا فیصلہ دیکھا جائے اور اسے بنیاد بنایا جائے تو چوہدری شجاعت کی بات کو ہی حتمی فیصلہ مانا جائے گا۔

ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کا اختیار ہوتا ہے کہ کس کو ووٹ دینا ہے، پارٹی سربراہ پارلیمنٹ کا حصہ ہی نہیں ہوتا، اس لیے اس کا اختیار ہی نہیں ہے کہ ووٹ دینے سے منع کرے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزارت اعلیٰ پنجاب کے انتخاب  میں ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے  نتیجے کا اعلان کرنے سے پہلے چوہدری شجاعت کا خط ایوان میں پڑھ کر سنایا۔ جس کی بنیاد پر مسلم لیگ (ق) کے پرویز الہیٰ کو دیے گئے تمام 10 ووٹ منسوخ کردیے تھے۔

چودھری شجاعت حسین کے خط میں پارٹی اراکین کو حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں