سیاسی تناو میں کُشتی کا تذکرہ، چودھری شجاعت کی بات پر فواد چودھری ہنس پڑے

سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا، شہباز اور حمزہ کو عہدے چھوڑ دینا چاہئیں: فواد چودھری

چودھری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی صحت سے متعلق فواد چودھری کے بیان کے بعد انہیں فون کر کے پوچھا کہ کیا وہ میری کسی کے ساتھ کشتی کروانا چاہتے ہیں؟

پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے انتخاب  اور چودھری شجاعت حسین کی جانب سے پرویز الہیٰ کی حمایت سے انکارکے بعدسے سیاسی تناو  کا ماحول برقرار ہے۔ ایسے میں چودھری شجاعت حسین نے فواد چودھری کے بیان کے بعد انہیں فون کر کے پوچھا کہ کیا وہ ان کی کسی کے ساتھ کشتی کروانا چاہتے ہیں؟

چودھری شجاعت حسین نے فواد چودھری سے ٹیلیفونک گفتگو کا احوال بتاتے ہوئے کہا ہے کہ میرے سوال کے جواب میں فواد چودھری ہنس پڑے۔

 اس سے قبل  تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نےچودھری شجاعت حسین کو بیمار کہا تھا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ چودھری شجاعت حسین  بیمار ہیں اور ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔ چودھری شجاعت سے کاغذ پر انگوٹھا لگوایا گیا۔

یاد رہے کہ جمعے کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت کے خط کو بنیاد بنا کر ان کی پارٹی کے 10 ارکان اسمبلی کے ووٹ مسترد کردیے تھے۔

پنجاب اسمبلی کے ان ارکان نے وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں چودھری پرویز الہیٰ کو ووٹ دیا تھا جبکہ چودھری شجاعت حسین نے اپنے خط میں اپنے بھائی  پرویز الہیٰ  کے مقابل  امیدوارحمزہ شہباز کو ووٹ ڈالنے کی تاکید کی تھی۔

 

متعلقہ خبریں