دنیا اب ہمیں پیسے بھی نہیں دیتی، وفاقی وزیر خزانہ کا اعتراف

کراچی: وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اعتراف کیا ہے کہ دنیا اب ہمیں پیسے بھی نہیں دیتی ہے، بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے قرضہ لینا پڑتا ہے۔

آرمی چیف کا آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے سعودی عرب اور اماراتی حکام سے رابطہ

ہم نیوز کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے شہر قائد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تاجروں پرتین ہزار ٹیکس لگانے کی تجویز دی، سپر ٹیکس لگایا تو لوگوں کر برا لگ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ملک پیچھے رہ گیا ہے، سیلز ٹیکس زیادہ ہے، تمام لوگ ٹیکس نیٹ میں ہیں، اس وقت ملکی برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے۔

آئی ایم ایف معاہدے کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مفتاح اسماعیل

قبل ازیں مفتاح اسماعیل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا دورہ کیا جہاں انہوں نے روایتی طور پر گھنٹہ بجا کر کاروبار کا آغاز کیا۔ اپنے دورے کے دوران صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگی رہنما نے ریٹیلرز کے لئے بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کے نفاذ کو مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ خسارہ 35 سو ارب روپے پہنچ چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے معاملے پر مزید مشاورت کے بعد نیا لائحہ عمل بنایا جائے گا، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا بینکوں سے کوئی تعلق یا ان کا عمل دخل نہیں ہے، عالمی ادائیگیوں کی وجہ سے روپے پر دباؤ بڑھا ہے۔

سپر ٹیکس معیشت پر بڑا حملہ، صنعتیں تباہ اور فیکٹریوں کو تالے لگ جائیں گے، شیخ رشید

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہمارے گذشتہ دور میں بجٹ خسارہ 1600 ارب تھا جو گزشتہ چار سال میں بڑھ کر 3500 ارب کی سطح پر آگیا ہے، کوشش ہے کہ آئندہ چھ ماہ امپورٹ بل کو کم رکھیں تاکہ بجٹ خسارہ کم ہوسکے، ملکی معیشت کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لئے مشکل فیصلے کئے، جلد چیزیں بہتر ہوجائیں گی۔

متعلقہ خبریں