پی ٹی آئی کافارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

ن لیگ سیاست کریگی اور کیا کریگی اب؟ پی ڈی ایم والے بچوں کی طرح رو رہے ہیں، فواد چودھری

تحریک انصاف نے فارن فنڈنگ کیس سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ دس محرم کے بعد چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔

رہنما پی ٹی آئی فواد چودھری کا کہنا ہے کہ  کس مائی کے لعل میں جرات ہے کہ عمران خان کو نااہل کرے۔ان کے بغیر پاکستان کی سیاست ہی نہیں ، عمران خان کے مقابلے میں سارے جوکر اکٹھے ہو گئے۔کیا آپ پاکستان میں ون پارٹی سسٹم بنانا چاہتے ہیں؟  ہم نے آخری مرحلے کی تیاری کرلی ہے ،13 اگست کو تاریخی جلسہ ہوگا، ہم انہیں انتخابات سے بھاگنے نہیں دیں گے۔

فواد چودھری نے کہا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کے فنڈنگ کے معاملے کو لے کر پاگل ہی ہوگئی ہے۔13اکاؤنٹس میں ہمارے لوگوں کو دو کروڑ روپے ٹرانسفر ہوئے۔ بڑھا چڑھا کر اس رقم کو اربوں روپے بتایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے چار ملازمین کو ایف آئی اے نے بلایا ہے۔الیکشن کمیشن کو یہ اکاؤنٹس کی تفصیلات دی گئیں۔ یہ فنڈنگ2012 میں  ہوئی۔2013کے الیکشن میں ہمارے رہنماوں کو 20،25لاکھ روپے بھیجے گئے۔تمام اکاؤنٹس میں مین اکاؤنٹ سے پیسہ ٹرانسفر کیا گیا۔

انہوں نے کہاہے کہ ایف آئی اے کو کس حیثیت سے یہ نوٹسز جاری کیے جارہے ہیں۔عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے سے تعاون کرنا ہے تو کریں گے۔ہم سیاسی جماعت ہیں، ہم پر لازم کے سوال کا جواب دیں۔ کل رانا ثنااللہ اپنی اوقات سے بڑھ کر باتیں کررہے تھے۔دو بڑے صوبے ہمارے پاس ہیں۔رانا صاحب صرف کوہسار تھانے کے ایس ایچ او ہیں بس۔

انہوں نے کہا ہے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک جائنٹ تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے۔25مئی کے مقدمات کے حوالے سے ان سے تحقیقات کی جائے۔ہمیں امید ہے کہ رانا ثنااللہ اور باقی لوگ چھپیں گے نہیں۔اسی طرح رانا صاحب فیصل آباد نہیں گئے، انہوں نے احتیاط کی۔توقع ہے ہم ایف آئے اے میں پیش ہوں گے وہ بھی پیش ہوں گے۔ہمیں امید ہے وفاقی حکومت اس ضمن میں تعاون کرے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ  تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن سے پندرہ دن میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے فنڈنگ کیسز کا فیصلہ کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا، فواد چودھری نے کہا ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کو کیوں بچایا جارہا ہے ، الیکشن کمیشن پی ڈی ایم کا ذیلی ادارہ بن گیا ہے۔الیکشن کمیشن نہ صرف جانبدار ہے بلکہ یہ ملا ہوا ہے۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کوساری جماعتوں کے اکاونٹس پر اکٹھا فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔فنڈنگ آڈٹ قانوناً ہر سال ہونا ہے، کیسے پیسے اکٹھے کیے اور خرچ کیے۔


متعلقہ خبریں