عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ تعلقات ٹھیک ہو رہے ہیں، پرویز الہیٰ

وفاق کا پنجاب کو گندم امپورٹ کرنیکی اجازت دینے سے انکار، وزیر اعلیٰ کا اظہار تشویش

وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہیٰ نے کہا ہےعمران خان کے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ تعلقات ٹھیک ہو رہے ہیں۔ آصف زرداری اور شہبازشریف سے اب کبھی بات نہیں ہوسکتی۔

وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہیٰ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ تعلقات ٹھیک ہو رہے ہیں۔ ن لیگ کو تکلیف ہے کہ معاملات بہتری کی طرف جانا شروع ہوگئے ہیں۔

ان  کا کہنا ہے کہ افواج پاکستان سرحدوں کی حفاظت کی ضامن اور ہمارا فخر ہیں۔ فوج کے خلاف پراپیگنڈا ملک دشمن ہی کرسکتا ہے۔ کسی بھی شکل میں افواج پاکستان کے خلاف بات نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہاہے کہ ن لیگ والے غلط اور بے بنیاد پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔ عمران خان، تحریک انصاف اور ہم افواج پاکستان کے ساتھ ہیں۔ کسی کو بھی فوج بدنام کرکےسیاسی مقاصد حاصل کرنے نہیں دیں گے۔

چودھری پرویز الہیٰ  کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کی وجہ سے بہت نقصان ہوا۔آصف زرداری اور شہبازشریف سے اب کبھی بات نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا ن لیگ کے ساتھ ہوتے تو وہ کام نہیں کرنے دیتے۔ عمران خان کے ساتھ جانے کا فیصلہ میرا اور مونس کا تھا۔کوئی فون نہیں آیا۔ عمران خان کے ساتھ اتحاد کرکے کوئی نقصان نہیں ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کا اتحاد ناممکن ہے۔عمران خان جب کہیں گے اسمبلی توڑ دیں گے۔ فارن فنڈنگ کیس کی کوئی اہمیت نہیں۔

پیپلزپارٹی کی طرف سے پرویز الہیٰ  کے بیان پر  رد عمل میں کہا گیا ہے کہ حیرت ہے پرویزالٰہی کو باعزت وزارت اعلیٰ منظور نہیں ہوئی۔ آصف زرداری پر تنقید کرنا پرویز الٰہی کی نوکری کا تقاضا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پرویزالٰہی نے ڈوبتی کشتی میں سوار ہو کر اپنا مستقبل غرق کردیا۔ پرویز الٰہی تو چودھری شجاعت کے وفادار نہیں رہے۔ عمران خان سے وفاداری کیسے کریں گے؟ فیصل کریم کنڈی نے کہا عمران خان کا بیان پرویزالٰہی کا پیچھا کرتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں