تحریک انصاف کا ہاکی گراؤنڈ میں جلسہ روکنے کی استدعا مسترد

مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کیخلاف آئینی درخواست پر سماعت آج ہو گی

فائل فوٹو

لاہور ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کا ہاکی گراؤنڈ میں جلسہ روکنے کی استدعا مسترد کردی.

عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب حکومت یقینی بنائے کہ جلسے کے دوران کوئی نقصان نہیں ہوگا جبکہ اسٹیڈیم کےلیے نئی آسٹروٹرف کا بندوست بھی جلد از جلد کیا جائے۔

جسٹس مزمل اختر شبیر نے لیگی رہنما عطا تارڑ سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔

درخواست گزرا نے موقف اختیار کیا کہ تحریک انصاف کے تیرہ اگست کو ہاکی گراؤنڈ میں جلسے کا اعلان کیا ہے۔ اسپورٹس بورڈ کے آئین کے مطابق کھیلوں کے گراؤنڈز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

درخواستگزار نے موقف اپنایا ہے کہ جلسے کے لیے ہاکی گراؤنڈ میں لگے آسٹروٹرف کو اکھاڑا جارہا ہے۔درخواستگزار نے نشاندہی کی کہ قومی ہاکی ٹیم کے پاس ٹریننگ کےلیے صرف نیشنل ہاکی اسٹیڈیم موجود ہے آگے متعدد ٹورز ہیں ہاکی ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔

جسٹس جسٹس مزمل اختر شبیر نے ریمارکس دیے کہ کامن ویلتھ گیمز میں قومی ہاکی ٹیم ساتویں نمبر پر آئی ہے،اس وقت تو آسٹرو ٹرف موجود تھی پھر ایسی کارکردگی کی کیا وجہ ہے؟؟بچپن سے ہاکی ٹیم کو کبھی ہارتے نہیں دیکھا مگر اب کبھی جیتتے نہیں دیکھا۔

دوران سماعت پنجاب حکومت کے وکیل نے بتایا کہ یہ ایک پر امن جلسہ ہونے جارہا ہے جس کی آئین بھی اجازت دیتا ہے جلسے سے ایک دن پہلے درخواست گزاروں کا کون سا حق متاثر ہوا؟

عدالت نے قرار دیا کہ ہاکی گراؤنڈ میں آسٹروٹروف جلد از جلد لگائے اور ڈپٹی کمشنر لاہور فوری درخواست گزاروں کی زیر التوا درخواستوں پر فیصلہ کرے۔

متعلقہ خبریں