لاہور: 2 ارب روپے کی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری

رواں سال سات ماہ کے دوران صوبائی دارالحکومت لاہور میں دو ارب روپے سے زائد مالیت کی گاڑیاں اورموٹر سائیکلیں چوری اور چھین لیں گئی۔

لاہور جیسے شہر میں ڈکیتوں اور چوروں نے 33 ہزار پولیس فورس ہونے کے باوجود سال 2022 کے سات ماہ میں غریب آدمی کی سواری موٹر سائیکل سمیت دو ارب کی گاڑیاں اور دیگر وہیکلز چوری اور چھین لیں۔

پولیس کی جانب سے تاحال صرف چالیس فیصد گاڑیاں ہی ریکور کی جاسکی ہیں۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق گزشتہ سات ماہ میں شہری کے چوراسی تھانوں کی حدود سے 15ہزار 733 موٹر سائیکلیں چوری و چھین لی گئیں۔ رواں سال چار سو تین گاڑیاں اور ایک ہزار ایک سو چالیس دیگر وہیکلز بھی چوری اورچھین لی گئیں۔

پولیس رپورٹ کے مطابق چوری اور چھینی گئی وہیکلز کی مالیت دو ارب روپے ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق3ہزار سات 743 موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں کے ساتھ صدر ڈویژن پہلے نمبرپر رہی، دوسرے نمبر پر سٹی ڈویژن تین ہزار دو سو پہچتر، کینٹ دویژں دو ہزار نو سو اآٹھ وارداتوں کے ساتھ تیسرے نمبر رہی۔

چوتھے نمبر پر ماڈل ٹاون کا علاقہ رہا جہاں2 ہزار 803 موٹر سائیکلیں چوری و چھین لی گئیں۔ پانچویں نمبر پر اقبال ٹائون کا علاقہ رہا جہاں پر سولہ سو موٹر سائیکلیں جبکہ چھٹے نمبر سول لائن ڈویژن رہی جہاں پر چودہ سو چار موٹر سائیکلیں چوری و چھین لی گئیں۔

وارداتوں میں ایک سو پانچ گاڑی چوری کے ساتھ کینٹ پہلے جبکہ ایک سو دو کے ساتھ ماڈل ٹائون دوسرے نمبر پر رہی۔ چھہتر کیسز کے ساتھ صدر تیسرے، سٹی ڈویژن چوتھے پر رہی جہاں پر پنتالیس گاڑیاں چوری و چھین لی گئیں،پولیس کے ریکارڈ کے مطابق پانچویں نمبر اقبال ٹائوں اکتالیس گاڑیاں اور چھٹے پر سول لائن چونتیس گاڑیوں کے ساتھ رہی۔

ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے چالیس فیصد تک کیسز کے چالان مکمل کیے جاسکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے ستر کروڑ کی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں ریکور کی جاچکی ہیں،دوسرے کیسز میں تفتیش جاری ہے جلد ہی تمام کیسز حل کر لیے جائیں گے۔

پولیس ذرائع کے مطابق متعدد کیسز میں موٹر سائیکلز اور گاڑیوں کے پارٹس کرکے اونے پونے داموں مارکیٹ میں فروخت کردیئے جاتے ہیں جسکی وجہ سے ریکوری کرنے میں مشکلات آتی ہیں۔ اور بہت سے کیسز میں گاڑیاں دوسرے صوبوں میں اور علاقہ غیر لیجائی جاتی ہے جہاں سے گاڑیاں ریکور کرکے واپس لانے میں پولیس کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں