غیرمعمولی حالات ہیں،قانون سازی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے:چیف جسٹس

نیب ترامیم کے خلاف کیس میں عمران خان کے وکیل نے سپریم کورٹ سے تحریری دلائل جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرنی ہے۔

عدالت نیب ترامیم کیخلاف درخواست کے کیس میں بہت احتیاط سے کام لے گی۔ اعلی عدلیہ اپنے فیصلوں میں نیب قانون پر تنقید کرتی رہی ہے، 90 دن کا ریمانڈ کہیں نہیں ہوتا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ صرف بنیادی حقوق کیخلاف ترامیم ہونے کے نکتے کا جائزہ لینگے، ترامیم احتساب کے عمل سے مذاق ہوئیں تو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی، اکثر ترامیم میں ملزمان کو رعایتیں بھی دی گئی ہیں۔ پلی بارگین کرنے والے کے شواہد کو ہی ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے، فوجداری نظام میں گرفتاری کی ممانعت نہیں ہے، گرفتاری جرم کی نوعیت کے حساب سے ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد ، دوبارہ میڈیکل کرانے کا حکم

وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ ملزمان بری ہوجاتے ہیں لیکن پھر بھی ان کے داغ نہیں دھلتے۔اعلیٰ عدلیہ نیب عدالت کی سزائیں برقرار نہیں رکھتی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ملک غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے۔ سابقہ حکومتی جماعت کے 150 ارکان اسمبلی بائیکاٹ کرکے بیٹھے ہیں۔ پی ٹی آئی کو کہا تھا اسمبلی جا کر اپنا کردار ادا کریں۔ اسمبلی میں موجود ارکان کو اپنے فائدے کی قانون سازی نہیں کرنا چاہیے۔

آئین کے تحت چلنے والے تمام اداروں کو مکمل سپورٹ کرینگے۔عدالت غیر معمولی حالات میں کیس سن کر مزے نہیں لے رہی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالت کے باہر سیاسی موسم تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ کیا سیاسی موسم کا عدالت کے اندر اثر ہونا چاہیے؟۔کیا عدالت میں صرف آئین اور قانون کا موسم نہیں رہنا چاہیے؟ کیس کی مزید سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

متعلقہ خبریں