شہباز گل کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں، عمران خان کو ملنے دینا چاہیے تھے، انہیں لہجہ بدلنا ہو گا، مولا بخش چانڈیو

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ شہباز گل کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے،عمران خان کو شہباز گل سے ملنے دینا چاہئے تھا اس میں کوئی حرج نہیں تھا، ملک کو ٹھیک کرنا ہے تو عمران خان کو اپنا لہجہ بدلنا ہو گا۔

شہباز گل سے نہیں ملنے دیا گیا، یہاں قانون کی حکمرانی ہے یا ڈنڈے کی؟ عمران خان

ہم نیوز کے پروگرام ’پاکستان ٹونائٹ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ فریال تالپورکو رات کو گرفتار کر کے اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا تھا،عمران خان کے کہنے پر فریال تالپور کو رات میں گرفتار کیا گیا تھا، آصف زرداری کی بیٹیوں کو گھنٹوں گھنٹوں والد سے ملاقات کرنے نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا تبدیل ہو گی لیکن عمران خان تبدیل نہیں ہوں گے، ان کے رویے میں سیاست آ ہی نہیں رہی ہے۔

پی پی رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ ہمارے قائدین کو شہید کیا گیا لیکن ہم نے کوئی بدلہ نہیں لیا، آصف زرداری نے کہا کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔

پروگرام پاکستان ٹونائٹ میں شریک دوسرے مہمان پی ٹی آئی رہنما علی نواز اعوان نے دعویٰ کیا کہ  شہباز گل کے پیٹ اور کمر پر 5 ملی میٹر کے زخم ہیں، شہبا ز گل کو چلنے میں بھی مشکل پیش آ رہی تھی، شہباز گل کے کزن کو بھی ان سے ملنے نہیں دیا گیا، ان کو کوہسار تھانے میں رکھا ہی نہیں تھا، میں نے پورے اسلام آباد کے تھانوں کا دورہ کیا تھا۔

علی نواز اعوان نے کہا کہ شہباز گل نے کہا ان پر تشدد کیا گیا، رات کو سونے نہیں دیا گیا، شہباز گل کو صفائی کا موقع ملنا چاہیے، ہم شہباز گل پر تشدد کے شواہد پیر کو عدالت میں پیش کریں گے، کبھی اسمبلی کے اندر پولیس نہیں آئی۔

کورٹ آرڈر لے آئیں، شہباز گل سے مل لیں، عمران خان احسان فراموش ہیں، مریم اورنگزیب

وزیراعظم میاں شہباز شریف کے معاون خصوصی اور ن لیگی رہنما عطا اللہ تارڑ نے پروگرام کے میزبان ثمر عباس کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات میں کہا کہ قانون اور ضابطے کے تحت کچھ چیزیں ہوتی ہیں جنہیں فالو کرنا پڑتا ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان کا جب دل کرے، وہ جس سے چاہیں ملاقات کر لیں، جن ملزمان پر ایف آئی آر رجسٹرڈ ہیں ان سے ملاقات کے لیے اجازت نامہ چاہئے۔

عطا اللہ تارڑ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سیاسی شعبدہ بازی سے باز رہیں، عمران خان نے ملاقات کرنی تھی تو پہلے درخواست دے دیتے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ تشدد کو کسی طرح بھی جسٹیفائی نہیں کیا جا سکتا ہے، شہباز گل کا تین دفعہ میڈیکل کروایا گیا لیکن تشدد ثابت نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام ہائی کورٹ نے مجھے تین دن پہلے ضمانت دی تھی، شہباز گل کے معاملے کو بیلنس کرنے کیلئے 16 اپریل کے واقعے میں 12 لوگوں کے نام ڈال دیئے، میرے چھوٹے بھائی کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں، میں تو پرویزالہٰی سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ میرے پورے خاندان کا نام ڈال دیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پنجاب حکومت بوکھلا گئی ہے، پورا ہوم ڈیپارٹمنٹ عطا اللہ  تارڑ کے پیچھے لگا ہوا ہے، میں دعوت دیتا ہوں گرفتار کرنا ہے تو آجائیں اسلام آباد، میرے خلاف کسی قسم کا کوئی مقدمہ زیر التوا نہیں ہے۔

مسلم لیگ ن کے 12 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری

ہم نیوز کے پروگرام میں شریک مہمان اور ن لیگی رہنما عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ لوگوں نے88،88 دن کے جسمانی ریمانڈ کاٹے ہیں، ہم نے دو دو سال بے گناہ قید کاٹی ہے، چار دن کے ریمانڈ پر ان کی چیخیں نکل رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں