کراچی:این اے 245 میں انتخابی مہم کا وقت ختم، پولنگ اتوار کو ہوگی

کراچی کے حلقے این اے دو سو پینتالیس میں انتخابی مہم کا وقت ختم ہوگیا۔ پولنگ اتوار کو ہوگی۔ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کے حق میں دستبردار ہوگئی۔ پی ایس پی کے امیدوار اور فاروق ستار بھی انتخابی میدان میں ہیں۔

کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو پینتالیس کے ضمنی انتخاب کےسلسلےمیں پولنگ اتوار کوہوگی۔  رات12بجتے ہی انتخابی مہم کا وقت ختم ہوگیا۔ انتخابی مہم کے آخری روز سیاسی جماعتوں کی جانب سےمختلف علاقوں میں ریلیاں نکالی گئیں۔

کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دوسو پینتالیس پر ضمنی انتخاب کے معرکہ میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ایم کیو ایم کے معید انور ،پی ٹی آئی کے محمود مولوی ، بحالی تحریک کے ڈاکٹر فاروق ستار ، تحریک لبیک کےمحمد احمد رضا میں مقابلہ  ہوگا۔

پا ک سرزمین پارٹی کی جانب سے حفیظ الدین اور مہاجر قومی مومنٹ کے محمد شاہد بھی اس نشست پر انتخابی دنگل میں زور آزمائی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی:این اے246لیاری کاضمنی انتخاب، عمران خان کےکاغذ ات نامزدگی جمع

سیاسی اتحاد میں شریک پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار ایم کیو ایم کے امیدوار کے حق میں دستبرداری کا اعلان کر چکے ہیں۔ضمنی انتخابات کے لئے 17 امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے تھے ۔ان میں سے اب 15 امیدوار مد مقابل ہیں ۔

این اے دو سو پینتالیس کے ضمنی انتخاب کے لئے انتخابی مہم کے آخری روز سیاسی گہما گہمی عروج پر رہی ۔ حلقے میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے پرچم اور امیدواروں کے بینرز آویزاں تھے ۔

پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے پاکستان ہاوس سے چیئرمین مصطفی کمال کی جانب سے ریلی نکالی گئی۔ انہوں نے ریلی سے خطاب میں کہا کہ جو پہلے جیتے ہوئے لوگ ہیں وہ ہی ہماری آواز نہیں بن رہے پھر جو یہاں سے جیت بھی جائیں اور اگر وسیع تر مفاد میں چھوڑ دیں تو اس حلقے کا مسئلہ جوں کا توں رہےگا۔

پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی زیدی اور سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کی قیادت میں حلقے میں ریلی نکالی گئی جس کے اختتام پر پی ٹی آئی رہنماوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا ۔

عمران اسماعیل نے کہا ویسےتو اس کی ضرورت نہیں تھی لوگوں کے دل میں عمران خان رہتا ہے لوگوں کے دماغ میں عمران خان کا پیغام پہنچ گیا ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستارکاکہنا تھا کہ عوام 21 اگست کو تالے پر ہی ٹھپہ لگائیں۔ جو سیاسی جماعتیں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ایک دوسرے پر الزام لگارہے ہیں ان کو بے نقاب کرنے آیا ہوں۔

اس سے پہلے تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے این اے 245 کے مختلف علاقوں میں ریلی نکالی گئی۔ایم کیو ایم نے سندھ میں نئی حلقہ بندیوں کو الیکشن سے پہلے دھاندلی قرار دے دیا۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے،، حلقہ بندیوں سے اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا گیا۔ کراچی اور حیدر آباد کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا۔ کہیں نوے ہزار، تو کہیں پچیس ہزار کا حلقہ بنا دیا گیا۔ اپنے حق کیلئے مقدمہ کہاں پیش کریں؟

کراچی ضلع شرقی میں واقع این اے دوسو پینتالیس کا حلقہ پرانی حلقہ بندی کے مطابق این اے 251 اور 252کے علاقوں پر مشتمل ہے۔

ماضی میں یہ علاقہ ایم کیوایم کا گڑھ رہا ہے اور اس کے امیدوار یہاں جیتتے آئے ہیں۔ لیکن دوہزار اٹھارہ میں ایم کیوایم کو یہاں شکست کا سامنا ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:شہباز شریف وعدے پورے کریں، کراچی کے شہری ہمیں کہہ رہے ان سے بھی جان چھڑائیں، وسیم اختر

دوہزار آٹھ کے عام انتخابات میں این اے 251 سے ایم کیو ایم کے وسیم اختر جبکہ این اے 252 سے عبدالررشید گوڈیل منتخب ہوئے۔
دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں این اے 251 سے علی رضا عابدی اور این اے 252 سے دوبارہ عبدالررشید گوڈیل کامیاب قرار پائے۔

دو ہزار اٹھارہ کے جنرل الیکشن میں این اے 245 سے پی ٹی آئی کے امیدوار ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 56673 ووٹ لے کرمنتخب ہوئے۔
ایم کیوایم کے فاروق ستار 35429 لیکر دوسرے اور تحریک لبیک کے محمد احمد رضا20737 ووٹ سمیت کر تیسرے نمبر پر رہے تھے ۔

متعلقہ خبریں