“آئی ایم ایف کو لکھیں کہ پیسے واپسی کی کمٹمنٹ نہیں کر سکتے”، شوکت ترین کی صوبائی وزرائے خزانہ کو ہدایت، آڈیو لیک


پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین، وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری اور تیمور جھگڑا کی مبینہ  ٹیلی فونک گفتگو  سامنے آگئی۔

ٹیلی فون گفتگو میں سابق وزیرخارجہ شوکت ترین ، پنجاب وزیر خزانہ سے کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کو 750ارب کی کمٹمنٹ دی ہے آپ سب نے سائن کیا ہے، آپ نے اب کہنا ہے ہم نے جو کمٹمنٹ دی تھی وہ سیلاب سے پہلے دی تھی، اب سیلاب کی وجہ سے ہمیں بہت پیسہ خرچ کرنا پڑے گا، اس لیے اب ہم یہ کمٹمنٹ پوری نہیں کر پائیں گے، یہی لکھنا ہے آپ نےا ور کچھ نہیں کرنا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا اجلاس آج، پاکستان کیلئے قرض کی منظوری کا امکان

انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں ان پر دباو پڑے، یہ ہمیں اندر کرارہے ہیں ہم پر دہشت گردی کے الزامات لگا رہے ہیں، یہ بالکل اسپاٹ فری جارہے ہیں یہ نہیں ہونے دینا ہے، تیمور ایک گھنٹے میں کر کے بھیج رہا ہے آپ بھی ذرا کہیں مجھے بھیج دیں، پر ہم یہ کر کے اس کو وفاقی حکومت کو بھیج دیں گے، اس کے بعد ہم اس کو آئی ایم ایف کے نمائندوں کو ریلیز بھی کر دیں گے۔

وزیرخزانہ محسن لغاری کا شوکت ترین سے سوال کیا کہ کیا اس سے ریاست کو نقصان نہیں ہوگا؟ شوکت ترین نے جواب دیا کہ یہ جس طرح چیئرمین اور دیگر کو ٹریڈ کررہے ہیں اس سے ریاست کو نقصان نہیں ہو رہا

سابق وزیر خزانہ کی خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا سے گفتگو کی آڈیو بھی سامنے آئی ہے، شوکت ترین نے تیمور جھگڑا سے سوال کیا کہ آپ نے خط بنا لیا؟ خط میں سب سے بڑا اور پہلا پوائنٹ ہوگا جو سیلاب آیا اس نے خیبرپختونخوا کا بیڑا غرق کردیا ہے، پہلا پوائنٹ ہو کہ ہمیں سیلاب متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لیے بہت پیسہ چاہیے، میں نے محسن لغاری کو بھی کہہ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ کا پی ٹی آئی پر آئی ایم ایف سے ڈیل کو ناکام بنانے کی کوشش کرنے کا الزام

تیمور جھگڑا نے کہا کہ ویسے یہ بلیک میلنگ کا حربہ ہے پیسے تو کسی نے ویسے ہی نہیں چھوڑنے، میں نے تو پیسے نہیں چھوڑنے، پتا نہیں لغاری کو چھوڑنے ہیں یا نہیں۔

کال پرتیمور جھگڑا نے یہ بھی کہا کہ میں آئی ایم ایف کےنمبرٹو کو جانتا ہوں ، اس سے تو میں ویسے ہی ساری معلومات لیتا رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے محسن نے بھی فون کیا تھا اس سے بھی میری بات ہوئی ہے، خان صاحب اور محمود خان نے مجھے کہا ہے ہمیں اکٹھے پریس کانفرنس کرنی چاہیے۔

شوکت ترین نے جواب دیا کہ وہ پریس کانفرنس نہیں ہونی وہ یہ تھا کہ یہ ہم کرلیں گے، اس کے بعد ہم پیر کو سیمینار کریں گے، اس پر پریس کانفرنس کرنی ہے تو وہ بھی ہم کرسکتے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں