خالصتان ریفرنڈم کے لیے کینیڈا میں 18 ستمبر سے ووٹنگ کا آغاز ہو گا

خالصتان ریفرنڈم کے لیے کینیڈا میں 18 ستمبر سے ووٹنگ کا آغاز ہو گا

ٹورنٹو: خالصتان ریفرنڈم کے لیے 18 ستمبر سے کینیڈا میں ووٹنگ کا آغاز ہوگا، ریفرنڈم سکھ فار جسٹس کے زیر اہتمام برامپٹن میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

بھارت میں سکھوں کے علیحدہ وطن کے قیام کے لیے برطانیہ میں ریفرنڈم

ہم نیوز نے عالمی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ کینیڈا میں منعقد کیے جانے والے ریفرنڈم سے قبل سکھوں نے پانچ میل طویل کار ریلی نکال کر لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔

واضح رہے کہ خالصتان پر ریفرنڈم کا آغاز گزشتہ سال 31 اکتوبر کو لندن سے ہوا تھا جس کے بعد ریفرنڈم کے حوالے سے اٹلی اور سوئزر لینڈ میں بھی ووٹنگ ہو چکی ہے۔ اعداد و شمار کے تحت اب تک ہونے والے ریفرنڈم میں ساڑھے چار لاکھ سکھ حصہ لے چکے ہیں۔

خالصتان ریفرنڈم مہم میں سکھوں سے اس سوال کا جواب طلب کیا جاتا ہے کہ کیا ہندوستان کے زیر انتظام پنجاب کو ایک آزاد ملک ہونا چاہیے؟

سکھوں سے ریفرنڈم میں پوچھے جانے والے سوال کی بھارتی دارالحکومت نئی دہلی اور بھارتی ذرائع ابلاغ کی جانب سے شدید مخالفت کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ کینیڈین چارٹر آف فریڈمز اینڈ رائٹس تمام سیاسی آرا کے عدم تشدد کے اظہار کی حفاظت کرتا ہے جس میں ریفرنڈم کے ذریعے علیحدگی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

ٹورنٹو میں خالصتان ریفرنڈم ووٹنگ سینٹر کا نام ’ہرجیندر سنگھ پاہرا‘ کے نام پر رکھا گیا ہے جو جون 1984 میں ہندوستانی فوج کے حملے کے بعد خالصتان کے لیے اس وقت کی جاری مسلح جدوجہد میں حصہ لینے کے لیے کینیڈا سے ہندوستان واپس آئے تھے۔

خالصتان کے حامی سکھوں کی بھارت سے بغاوت زور پکڑنے لگی

میڈیا رپورٹس کے مطابق گولڈن ٹیمپل پر اسٹیجڈ پولیس مقابلے میں بھارتی فورسز نے 1988 میں پاہرا کو ماورائے عدالت قتل کیا تھا۔

18 ستمبر کی ووٹنگ کو ’خالصتان! راکٹ سے ریفرنڈم تک کا سفر‘ قرار دیتے ہوئے معروف سکھ رہنما اور ایس ایف جے (SFJ) کے جنرل کونسلر گرپتونت سنگھ پنن کا کہنا ہے کہ بیلٹ اس صدی کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے جس کے ذریعے ہم ہندوستان کو بالکانائز کریں گے اور اپنے پیارے پنجاب کو آزاد کرائیں گے، اپنے گرو کی عزت کرنے کے لیے۔

ایس ایف جے کے مرکزی رہنماؤں نے اس حوالے سے منعقدہ ایک پریس کانفرنس خالصتان کے ذریعے ہندوستان سے علیحدگی کے لیے مختص علاقوں کا نقشہ جاری کیا ہے جس میں شملہ کو خالصتان کا دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔

جاری کردہ نقشہ 1966 سے پہلے کے پنجاب کے علاقوں پر مشتمل ہے جس میں ہریانہ، ہماچل پردیش و راجستھان، اتر پردیش اور اتر اکھنڈ کے سکھ اکثریتی علاقے شامل ہیں۔

ایس ایف جے کے مطابق ریفرنڈم مختلف مراحل میں منعقد کیا جائے گا جس کے دوران اوٹاوا، مونٹریال، کیلگری، ایڈمنٹن، وینکوور اورسرے کے شہروں سمیت پورے ملک میں پولنگ ہوگی۔

بھارت: جیل میں سکھ قیدی پر تشدد، حکام نے گرم سلاخ سے دہشت گرد لکھوادیا

خالصتان ریفرنڈم میں ووٹنگ پنجاب ریفرنڈم کمیشن (PRC) کی نگرانی میں ہو رہی ہے جو آزادی کے ریفرنڈم اور براہ راست جمہوریت کے بارے میں عالمی شہرت یافتہ غیر وابستہ ماہرین کا ایک پینل ہے۔

متعلقہ خبریں