روس کا یوکرین جنگ میں شدت لانیکا فیصلہ: 3لاکھ بھرتیوں کا حکم، شہریوں نے پڑوسی ممالک کا رخ کر لیا

ماسکو: روس نے یوکرین جنگ میں شدت و تیزی لانے کا فیصلہ کرنے کے بعد فوج میں بڑے پیمانے پر بھرتیوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس کے بعد بہت سے روسی افراد نے پڑوسی ممالک کا رخ کرلیا ہے۔

روس یوکرین میں اپنی ایک تہائی افواج کھو چکا ہے، برطانیہ

ہم نیوز نے برطانوی خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ اور مؤقر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس کی جانب سے شروع کی جانے والی بھرتیاں اعداد و شمار کے لحاظ سے جنگ عظیم دوم کے بعد کی جانے والی سب سے بڑی فوجی بھرتیاں ہیں۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے فوج میں تین لاکھ مزید نئی بھرتیاں کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

امریکی اخبار کے مطابق جاری یوکرین جنگ کے خلاف روس کے تین درجن سے زائد شہروں میں مظاہرے کیے گئے ہیں جس پر کارروائی کرتے ہوئے ایک ہزار 300 سے زائد احتجاجی مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

روس یوکرین کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے، یوکرینی انٹیلیجنس چیف

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق روس میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث نہ صرف فن لینڈ اور جارجیا کی روس سے ملی ہوئی سرحدوں پر گاڑیوں کا رش بڑھ گیا ہے بلکہ روس سے بیرون ملک جانے والی پروازوں کے کرایوں میں بھی پانچ ہزار ڈالرذ سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق روسی حکام کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں شہریوں کے باہر جانے سے متعلق خبریں بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہیں۔

روس یوکرین جنگ، ننھے کتے کو صدارتی اعزاز دیا گیا

واضح رہے کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ خصوصی ٹریبونل تشکیل دے اور روس کو سلامتی کونسل کی ویٹو شپ سے بھی محروم کرے۔

متعلقہ خبریں