ایک طرف پاکستان میں سیلابی صورتحال تو دوسری طرف قرضوں کا بوجھ ہے، بلاول بھٹو

 وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ایک طرف پاکستان میں سیلابی صورتحال تو دوسری طرف قرضوں کا بوجھ ہے۔ ہمیں تعمیر نو اور بحالی کے لیے بہت زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے۔مالی امداد کے لیے ہم بین الااقوامی اداروں سے بات کررہے ہیں۔

وزیرخارجہ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت بدترین سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ سعودی میڈیا کو انٹرویو میں وزیرخارجہ نے کہا سیلابی پانی سے اس وقت مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سیلاب سے متاثرہ افراد کیلئے خوراک کی فوری ضرورت ہے، قرضوں کو ری شیڈول کرنا ہو گا، بلاول

ان کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی میں وقت لگے گا۔ ایک طرف پاکستان میں سیلابی صورتحال تو دوسری طرف قرضوں کا بوجھ ہے۔ با سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہاہے کہ اس وقت سیلاب کے باعث پاکستان میں صورتحال بہت گھمبیر ہے۔مون سون بارشوں کے باعث پاکستان میں سیکڑوں کلومیٹر پر محیط جھیل بن گئی۔پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب آگیا۔

ان کا کہنا ہے کہ 3کروڑ30لاکھ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہوئے۔متاثرین میں ایک کروڑ 60 لاکھ بچے، 6 لاکھ حاملہ خواتین شامل ہیں۔ہمیں نا صرف سیلاب سے نمٹنا ہے بلکہ وبائی امراض سے بھی متاثرین کو بچانا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ40 لاکھ ایکٹر پر کھڑی فصلیں سیلاب کی نذر ہوگئیں ۔فصلیں تباہ ہونے سے ہمیں غذائی قلت سے بھی نمٹنا ہے۔آئی ایم ایف سے ملنے والی امداد سے ہمیں کچھ اقتصادی ریلیف ملاہے۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی برادری مدد کرے تاکہ سیلاب متاثرین کی بحالی ممکن ہو، وزیر اعظم

ان کا کہنا ہے کہ موحولیاتی تبدیلی، قدرتی آفت،ہیلتھ ایمرجنسی، غذائی تحفظ جیسے چیلنجیز کا سامنا ہے۔ان تمام مشکلات کی وجہ سے آنے والے دنوں میں اور مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ہمیں تعمیر نو اور بحالی کے لیے بہت زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے۔مالی امداد کے لیے ہم بین الااقوامی اداروں سے بات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنا اشد ضروری ہے۔بھارت کے حالیہ اقدامات کے باعث کشمیریوں کے بنیادی حقوق بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں