خود کو عہدے پر غیر محفوظ سمجھتا تھا، حکومت نے یکطرفہ فیصلہ کر لیا، اللہ خیر کرے، مفتاح اسماعیل

کراچی: سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ عہدہ سنبھالا تو دو ہفتے بعد ہی اسحاق ڈار کی واپسی کی خبریں آ گئیں، خود کو اپنے عہدے پر غیر محفوظ سمجھتا تھا، اس لیے دو تین ہفتے بعد ملاقات کا وقت نہیں دیتا تھا۔

آئی ایم ایف معاہدے کی دھجیاں بکھیری گئیں تو اس نے ہمیں آڑے ہاتھوں لیا، ناک سے لکیریں نکلوائیں، وزیراعظم

ہم نیوز کے مطابق شہر قائد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یہی وجہ تھی کہ کچھ روز پہلے کہا کہ حکومت وقت پورا کرے گی، اپنا پتہ نہیں، اس پر کابینہ اراکین نے پوچھا کہ ایسا کیوں کہا؟ لیکن اب میں سچا ثابت ہو گیا۔

مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیا کہ آئی ایم ایف نے کہا قسط ملنے کے بعد آپ پیٹرول پر لیوی نہیں لگائیں گے لیکن میں نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا کہ پیٹرول پر لیوی لگاؤں گا، تین ماہ پیٹرول پر دس دس اور ڈیزل پر پانچ پانچ روپے لیوی لگائی مگراس مہینے حکومت نے پھر لیوی نہیں بڑھائی۔

سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ آئی ایم ایف سے پوچھو کیا ہم تین ماہ پیٹرول کی قیمت برقرار رکھ سکتے ہیں؟ تو میں نے مشیر کو جواب دیا کہ مر کر بھی یہ نہیں پوچھوں گا۔

آئی ایم ایف کا ہر حکم نہیں مان سکتے، آپ نے پچھلی حکومت کا کام کرنا ہے تو پھر ہمیں آنے کی کیا ضرورت تھی؟ لیگی سینیٹر وزیر پر برہم

ہم نیوز کے مطابق ن لیگی رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے پوچھا کیا ہم ٹیکس برقرار رکھ سکتے ہیں؟ تو ان کا جواب نہیں آیا، حکومت نے یکطرفہ فیصلہ کر لیا، اللہ خیر کرے۔

متعلقہ خبریں