سیلاب کی تباہ کاریاں، ریلوے کا اربوں روپے کا نقصان،3،187 کلومیٹر طویل ٹریک متاثر

حالیہ سیلاب کے باعث جہاں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی وہی پہلے سے ہی خسارے میں چلنے والا محکمہ ریلوے بھی اس کی زد میں آیا ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق انہیں انفراسٹکچر کی بحالی کے لیے پانچ ارب روپے سے زائد کی رقم درکار ہے،محکمہ ریلوے نے سیلاب کے باعث نقصانات پر مبنی سمری وزارت ریلوے کو بھجوا دی جس کے مطابق سیلاب سے تین ہزار ایک سو ستاسی کلومیٹر ٹریک متاثر ہوا۔

محکمہ ریلوے کی جانب سے بھجوائی گئی سمری کے مطابق سیلاب کی وجہ سے ریلوے لائن ون ٹو اور تھری پر تین ہزار ایک سو ستاسی کلومیٹر ٹریک کو نقصان پہنچا جبکہ نو سو سترہ کلومیٹر ٹریک جزوری طور پر تباہ ہوا۔

ریلوے کی جانب سے تباہ شدہ ٹریک کی تبدیلی کیلئے 433 ارب کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

سمری کے مطابق حیدر آباد، میرپورخاس، کھوکھو پار، وزیرآباد، سیالکوٹ اور کوئٹہ چمن سیکشن پر ایک سو نو کلومیٹر ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا۔ 123 کلومیٹر ٹریک کو جزوی نقصان پہنچا جس پر سترہ ارب روپے خرچ ہوں گے۔

سمری کے مطابق ریلوے ڈویثرنز کے دفاتر کی بحالی پر تین ارب خرچ ہونگے۔ کراچی، سکھر، ملتان اور لاہور ڈویژن میں سیلاب سے تباہ سگنلنگ سسٹم کی بحالی کا تخمینہ تریپن ارب روپے لگایا گیا۔

سمری کے مطابق کمونیکیشن ٹاورز اور آلات کیلئے چھ ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہےجبکہ اکتالیس یارڈ ڈرینز کو پہنچنے والے جزوی نقصان اور بحالی کا تخمینہ دو ارب تئیس کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سیلاب کے باعث اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ساڑھے بارہ سو سے زائد ہے جبکہ زخمی افراد کی تعداد 12,588 ہے۔

نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سینٹر کی جانب سے سے تقریباً 80 اضلاع کو “آفت زدہ” قرار دیا گیا ہے۔

ٹیگز :
متعلقہ خبریں