عمران خان پر الزامات کے ثبوت ہیں، گرفتار کیا جائے، مریم نواز

لاہور: مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان پر الزامات کے ثبوت موجود ہیں، انہیں بھی گرفتار کیا جائے۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ہائی کورٹ سے پاسپورٹ واپس ملا ہے جس کی مجھے خوشی ہے۔ پاسپورٹ رکھنے کا میرا بنیادی حق کیوں چھینا گیا ؟ اور میرا پاسپورٹ 3 سال کیوں نہیں دیا گیا ؟ جس کیس میں میرا پاسپورٹ رکھا گیا تھا وہ کیس بنا ہی نہیں تھا اور سوال اٹھتا ہے کہ مجھے 3 سال میرے حق سے محروم کیوں رکھا گیا ؟

انہوں نے کہا کہ مجھے انوسٹی گیشن کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا۔ نیب کو خواتین کے لیے بنایا ہی نہیں گیا تھا اور وہاں جو سیل بنے ہوئے ہیں وہ مرد حضرات کے لیے ہیں۔ انہوں نے مجھے نیب کے ہیڈ آفس میں 57 دن حبس بے جا میں رکھا جہاں مجھ سے پوچھا جاتا تھا کھانے کا مینو کون بناتا ہے اور پارٹی کے فیصلے کون کرتا ہے ؟ 57 دن کے بعد مجھے کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا گیا جہاں ڈیڑھ مہینہ قید رہی۔

مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے صرف پاسپورٹ ہی نہیں بلکہ 7 کروڑ روپے بھی اپنے پاس رکھے لیکن سوال یہ ہے کہ 6 سال مقدمہ کیوں چلایا گیا؟ جسٹس شوکت عزیز کے انکشافات قوم کے سامنے ہیں اور میں 6 سال پانامہ کے جھوٹے مقدمے کو بھگتتی رہی۔ عمران خان کو الیکشن جتوانے کے لیے یہ سارا ڈرامہ رچایا گیا لیکن انشا اللہ ایک دن قوم کے سامنے حقیقت آ کر رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں دکھا سکے جس سے ثابت ہو کہ نواز شریف کی پراپرٹی ہو اور مجھے کیلیبری کوئین کہا گیا۔ میرے والد نے تو کبھی کاروبار کیا ہی نہیں اور میں نے اپنے وکیل کو ہدایت کی تھی کہ مجھے نیب کی نئی ترامیم کا فائدہ نہیں اٹھانا اور مجھے نیب کی نئی ترامیم کے باعث ریلیف نہیں ملا۔ جھوٹا مقدمہ جو قوم کے سامنے آیا آپ اس کو این آر او کہتے ہیں لیکن کیا کسی کو قید کرنا این آر او ہوتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی مسلح افواج کیخلاف مہم کا مقصد اپنی حمایت پر مجبور کرنا ہے، شہباز شریف

مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ میرے جلسے جلوسوں سے خوفزدہ ہو کر مجھے جیل میں ڈال دیا، اس کو این آر او کہو گے؟ ظلم نے ایک دن مٹنا ہوتا ہے، یہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ اسحاق ڈار کو اس ملک سے جانا کیوں پڑا یہ ان سب کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اسحاق ڈار کی واپسی این آر او ہے لیکن اسحاق ڈار کی واپسی سے معیشت بہتر ہورہی ہے انہوں نے پہلے بھی دو دفعہ ملک کو بحرانوں سے نکالا تھا اور اب بھی نکالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر معیشت بہتر ہو گئی تو یہ لوگ عوام کو کیا منہ دکھائیں گے اور وزیر اعظم ہاؤس میں لوگوں کو بلا کر کہا جاتا ہے کہ مریم نواز کو گرفتار کرو۔ آپ نے بنی گالہ کی جھوٹی رجسٹریشن کرائی، اس کو این آر او کہتے ہیں۔ عمران خان کو شرم نہیں آتی اور معافی مانگنے کے بجائے این آر او این آر او کی رٹ لگا رہا ہے۔ پنجاب میں حکومت ملی تو آپ نے فرخ خان کے کیس ختم کرائے، یہ ہوتاہے این آر او۔

مریم نواز نے کہا کہ ماضی میں جس کو پنجاب کا بڑا ڈاکو کہتے تھے آج اس کو وزیراعلیٰ بنا دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیٹے کو بھی کل ہائیکورٹ سے ریلیف ملا لیکن تمہار ے خلاف اتنےبڑے بڑے کیسز ہیں،۔ فارن فنڈنگ اور توشہ خانہ کیس میں مجرم یہ ثابت ہوا جبکہ فرح خان کو راتوں رات باہر بھیج دیا گیا یہ این آر او نہیں ؟

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا ہمارے معاشرے میں عورتوں کی بڑی عزت ہوتی ہے۔مریم نواز کو جیل میں آپ کی حکومت میں بھیجا گیا۔ میں تب بھی خاتون تھی جب مجھے 6 سال عدالتوں میں دھکے کھانے پر مجبور کیا گیا اور تم نے مجھے میرے باپ کے سامنے گرفتارکیا اس وقت میں خاتون نہیں تھی؟ لیکن ہم تمہاری طرح چھپ کر ضمانتیں نہیں کراتے۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ میں نے نیب کے باہر پتھر بھی کھائے اور میری گاڑی کی اسکرین بھی ٹوٹ گئی، عمران خان میرے خلاف فرسٹریشن میں جملے کستے ہیں اور جلسوں میں ان کی ساری تقاریر میرے خلاف ہوتی ہیں۔ کیا جلسوں میں بھول جاتے ہو کہ مریم نواز ایک عورت ہے جبکہ خاتون جج کو جلسے میں للکارا،  نام بھی لیا اور بعد میں معافی مانگی لیکن یہ معافی انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے مانگی۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کی میں بہت عزت کرتی ہوں جبکہ طلال چودھری، دانیال عزیز نے کچھ نہیں کیا انہیں بھی معافی ملنی چاہیے۔ عمران خان نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ سائفر گم ہوگیا، سائفر حکومت کی امانت ہے کوئی ہیرے کی انگوٹھی نہیں۔ یہ پاکستان کی امانت تھی اور آج تک کوئی سائفر غائب نہیں ہوا۔ ریاست کی دستاویز کو آپ نے غائب کیا۔

مریم نواز نے کہا کہ آپ نے اس سائفر میں جعل سازی کی منٹس تبدیل کیے اور سائفر میں سازش کا کوئی ذکر نہیں تھا اس جھوٹے سائفر کی بنیاد پر آپ نے پارلیمنٹ توڑ دی اور اگر جھوٹ بولو گے تو ساری زندگی رونا پڑے گا۔ ٹیکسلا جلسے میں اداروں کے خلاف جو کچھ بولا گیا اس پر آپ کو شرم آنی چاہیے۔ دنیا آج پاکستان کو سائفر بھیجنے سے ڈرتی ہے اور جس کا پورا کیریئر ڈیل پر چلتا ہو وہ آج اسحاق ڈار پر تنقید کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تم پہلے شخص ہو جس نے نیوٹرل لفظ کو گالی بنایا اور اقتدار میں تھے تو سب اچھے لیکن اقتدار گیا تو سب برے ہو گئے۔ عمران خان کو آج اقتدار مل جائے تو پھر تعریف شروع کر دیں گے۔ ایوان صدر میں خفیہ ملاقات کرنے والا این آر او مانگ رہا ہے اور این آر او نہیں ملتا تو باہر آکر شور کرتے ہو۔ مریم اورنگزیب کے ساتھ لندن میں جو کچھ ہوا کیا وہ عورت نہیں تھی؟ جو تمہیں رنگے ہاتھوں پکڑے وہ غلط ہے۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ ہر چیز کو آپ نے اپنی گھٹیا سیاست کی نظر کیا شرم آنی چاہیئے اور اللہ تعالی کرے کہ نواز شریف میرے ساتھ واپس آئے ان کی واپس کا راستہ صاف ہے۔ صرف ایک درخواست دینی ہے عدالت میں جو ہم دیں گے اور وطن واپسی کا فیصلہ نواز شریف خود کریں گے، جو لوگ مجھے توڑنا چاہتے تھے میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں اور نواز شریف نے پہلے ہی کہا تھا اس کو لا رہے ہیں معیشت تباہ ہوجائےگی۔ قانون کے ہاتھ اب اس کے گریبان سے دور نہیں اور چاہتےہیں کہ اس کو بھی پکڑا جائے تاکہ اس کو پتہ چلے۔ اس پر سنگین قسم کے الزامات ہیں جن کے ثبوت بھی موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں