رانا ثنا اللہ دیکھ لیں، ارد گرد کس کی حکومتیں ہیں، پرویز الہیٰ

وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ دیکھ لیں کہ ارد گرد کس کی حکومتیں ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ نے لندن میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان لانگ مارچ کے وقت جو کہیں گے اس پر عمل کریں گے اور وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اپنے اردگرد دیکھ لیں کہ کس کی حکومتیں ہیں۔ پنجاب عمران خان کا اپنا ہے، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی ان کا ہی ہے۔ لانگ مارچ ہوا تو رانا ثنا اللہ کو کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے ملنے کا کوئی شوق ہے نہ ہی ان سے ملنے کا خواہاں ہوں اور کافی عرصہ ساتھ رہنے کے بعد انسان کو سیکھ جانا چاہیے۔ مجھے نواز شریف کے گھر کے ایک ایک شخص کا علم ہے۔

پرویز الہیٰ نے کہا کہ شریف خاندان نے ہمارے ملک کا برا حال کیا ہے اور شہباز شریف نے پنجاب کے سیلاب متاثرین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جبکہ عمران خان نے سیلاب متاثرین کے لیے عطیات جمع کیے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی مقبولیت کی وجہ سے کامیاب ٹیلی تھون ہوئی اور ہم نے ٹیلی تھون کے ذریعے اڑھائی ارب روپے جمع کیے۔

رانا ثنا اللہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پرویز الہیٰ نے کہا کہ رانا ثنا اللہ نے خواتین اور بچوں پر گولیاں چلائیں اور ان کا اعترافی بیان اسمبلی میں موجود ہے جو عدالت کو دینے جا رہے ہیں۔ رانا ثنا اللہ سمجھتے تھے کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مایہ ناز وکلا، سیکرٹری قانون اور ایڈووکیٹ جنرل پر مشتمل ٹیم تشکیل دی ہے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کےذمہ داروں کو سزائیں ہوں گی۔

مریم نواز کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہی بھی  لندن پہنچ گئے، پرویز الہی نے کہا کہ  پانچ سال بعد مونس الہٰی کی فیملی سے ملنے لندن آیا ہوں، نواز شریف سے ملنے کا شوق نہیں ، کافی عرصہ ساتھ رہنے کے بعد انسان کو سیکھ جانا چاہیے، مجھے ان کے گھر کا بھی علم ہے ، ایک ایک شخص کا علم ہے۔

پرویز الہی کا کہنا تھا کہ سیلاب کے دوران شہباز شریف نے پنجاب کو ایک پیسہ نہیں دیا، ٹیلی تھون کے ذریعے جمع کئے گئے ڈھائی ارب روپے سیلاب متاثرین کو دے رہے ہیں، سیلاب متاثرین کو احساس پروگرام کے تحت پیسے دے رہے ہیں، ہمارے ساتھ ورلڈ بینک اور دیگر ڈونرز براہ راست رابطے میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لانگ مارچ کی تاریخ کا شاہ محمود قریشی کو بھی نہیں بتایا،عمران خان

رانا ثنا اللہ کا اسمبلی میں بیان بھی عدالت کو دے رہے ہیں، رانا ثنا اللہ نے اسمبلی میں کہا ریاست کے اندر ریاست بن رہی تھی، ماڈل ٹاون میں جس طرح رانا ثنا اللہ نے گولیاں چلائیں امید ہے انہیں سزا ہوگی، لانگ مارچ کے دوران رانا صاحب کو کھڑے ہونے کی جگہ نہیں ملے گی، پنجاب، کے پی، جی بی اور آزاد کشمیر میں عمران خان کی حکومت ہے، وزیر داخلہ پنجاب کا لانگ مارچ سے متعلق بیان، کوئی ایسی بات نہیں، لانگ مارچ کا وقت آئے گا تو جو عمران خان کہیں گے وہ کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیل ریفارمز کیں، جیلوں میں کھانے کا بہترین انتظام کیا، پنجاب میں دو ، تین نئی جیلیں بھی بنا رہے ہیں، نارکوٹکس کے حوالے سے ایک الگ قانون لا رہے ہیں، نارکوٹکس کی الگ سے ایک فورس بنا رہے ہیں، فورس یقینی بنائے گی کہ اسکول اور کالجز میں منشیات کا استعمال نہ ہو، منشیات سے متعلق سخت قوانین لا رہے ہیں،عمر قید کی سزا بھی رکھ رہےہیں، پہلے میٹرک تک فری تعلیم کا اعلان کیا تھا، اب بی اے تک فری تعلیم کا اعلا ن کیا۔

متعلقہ خبریں