عدالت نے شہباز گل کی موبائل فونز واپس کرنے کی درخواست مسترد کر دی

اسلام آباد: عدالت نے شہباز گل کی درخواست پر سب کچھ واپس کرنے کا حکم دے دیا تاہم موبائل فونز واپس نہیں کیے جائیں گے۔

سیشن کورٹ اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنما شہبازگل کی سپرداری کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا۔ ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس سپرا نے دو صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق وکیل ملزم کے مطابق پولیس نے جو اشیا تحویل میں لیں ان کا الزامات سے کوئی تعلق نہیں اور وکیل ملزم کے مطابق شہباز گل کو روزمرہ کے معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت جب حکم دے درخواست گزار اشیا جمع کروا دے گا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق پولیس کی تحویل میں شہباز گل کا موبائل فون اہم ثبوت ہے اور شہباز گل کا موبائل فون فرانزک لیب کو بھیج دیا گیا ہے۔

سیشن کورٹ نے کہا کہ پراسیکیوٹر کے مطابق اگر موبائل فونز واپس دے دیئے تو ثبوتوں میں گڑ بڑ کرنے کا بھی خدشہ ہے جبکہ پراسیکیوٹر کو گرفتاری اور تفتیش کے وقت پولیس کے پاس دیگر اشیا کی واپسی پر کوئی اعتراض نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کیخلاف مقدمات کا لنڈا بازار لگا دیا، بابر اعوان

عدالت نے پاسپورٹ، دستاویزات ،چیک بک، لائسنس ، کارڈز وغیرہ شہباز گل کو واپس کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض شہباز گل کو روزمرہ استعمال کرنے والی اشیا واپس کی جائیں اور ضرورت پڑنے پر شہباز گل ان اشیا کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔

عدالت نے موبائل فونز واپس کرنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ٹرائل کے وقت موبائل فونز ایک اہم ثبوت کے طور پر استعمال ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں