پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، صدر کا خطاب،بیشتر ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر چلے گئے

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر پاکستان عارف علوی کے خطاب کے دوران حکومتی اور اپوزیشن کے بیشتر ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر چلے گئے۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرز نے شرکت نہیں کی۔

صدر کے خطاب کے دوران اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سمیت پی ٹی آئی کے منحرف ارکان نے احتجاج اور نعرے بازی کی جب کہ خواجہ آصف ایوان میں دیگر اراکین کو واک آوٹ کے لیے قائل کرتے رہے۔

صدر عارف علوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیلاب اس سال پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، افواج پاکستان نے مشکل میں اتر کر لوگوں کی مدد کیی، وفاقی و صوبائی حکومتوں، این ڈی ایم اے، این جی اوز نے بہترین انداز سے متاثرین کی مدد کی، موسمیاتی تبدیلی میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب نے پاکستان کی سرزمین پر مشکلات پیدا کی ہیں جب کہ 1500 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں، حکومت کی متاثرین سیلاب کیلئے کوششیں قابل تعریف ہیں۔

صدر نے کہا کہ سیلاب سے ہماری زراعت کو بھی بہت نقصان ہوا جو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے، پاکستان آزاد ہوا تو یہاں دنیا کا بہترین نہری نظام موجود تھا۔

صدر صاحب کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے، خواجہ آصف

عارف علوی نے کہا کہ کرپشن کے مسئلے پر نیب کو مضبوط کرنا چاہیے ، اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے، نیب کو دوسروں پر ظلم اور ناانصافی کیلئے استعمال نہ کیا جائے، دنیا کرپشن کے جرم کو دیگر جرائم کی طرح نہیں دیکھتی،کرپشن کی بیخ کنی کرنے کے موضوع پر سب متفق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  مقننہ اتنی محنت سے قانون بناتی ہے، بعض اوقات اس قانون کا غلط استعمال بھی ہوتا ہے ،میرے خلاف دہشت گردی کا الزام لگا کہ یہ بندوقیں سپلائی کرتا تھا،میری گزارش ہے کہ قوانین کو ان کے صحیح سیاق و سباق کے مطابق استعمال کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ڈاکٹروں اور نرسز کا فقدان ہیں، 7لاکھ نرسیں چاہئیں،ایک تحقیق کے مطابق 24 فیصد پاکستانی ذہنی تناؤ کا شکار ہیں جب کہ ایچ آر سی کے مطابق ملک بھر میں ذہنی تناؤ کا علاج کرنے والے سائیکیٹرسٹ 500 سے بھی کم ہیں۔

صدر پاکستان نے کہا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا نے بھی ایک ہیجان پیدا کیا ہوا ہے،  قانون کے ڈنڈے کے ذریعے بہت ساری چیزیں ٹھیک نہیں ہوں گی، یوٹیوب بند کیا گیا تو پاکستان کو فنانشل نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم فیک نیوز برملا چلاتے ہیں، حکومت نے آڈیو لیکس کی تحقیقات کرنے کااچھا کام کیا ہے۔

متعلقہ خبریں