صدر مملکت کا سائفر سے متعلق خبروں کا نوٹس

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سائفر سے متعلق خبروں کا نوٹس لیے لیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سائفر کے حوالے سے بیان کو مکمل طور پر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور سیاق و سباق سے ہٹ کر بیانات کو پیش کرنا مزید خلیج کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ سازش کے بارے میں شبہ ہے اور حتمی فیصلہ تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے، چیف جسٹس کو خط لکھنے سے لے کر اب تک میرے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے نیب سے ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ خط میں سپریم کورٹ سے معاملے کی مکمل انکوائری کرنے کی درخواست کی تھی اور پختہ یقین ہے کہ سائفر کے معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ معاملے کو سپریم کورٹ اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ سازش کا کوئی شک و شبہ نہیں تھا اور معاملہ ملک کے سابق وزیر اعظم کی جانب سے اٹھایا گیا تھا۔ تمام دستیاب شواہد سمیت پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ سائفر کے قومی سطح پر اثرات ہوئے اور سیاسی ہلچل پیدا ہوئی جبکہ سپریم کورٹ سے جاری کردہ ڈیمارش سے ہٹ کر بھی انکوائری کی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی ہے صدر مملکت کے الفاظ کو سنجیدہ معاملے پر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا جس کے سنگین مضمرات ہوئے۔

متعلقہ خبریں