ایف سی کالج میں پیس جرنلزم پر تین روزہ ورکشاپ کا اہتمام

ایف سی کالج کے فیکلٹی آف ہیومینٹیزنے شعبہ صحافت اور میڈیا اسٹڈیزاوسلو میٹروپولیٹن یوونیورسٹی، ناروے کے تعاون سے پیس جرنلزم کے موضوع پر تین روزہ ورکشاپ میں سوشل میڈیا کے اثرات،قومی ذرائع ابلاغ اور امن کی کوششوں اور جمہوری روایات بارے مختلف سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب میں ماہرین تعلیم، طلباء اور صحافیوں کے علاوہ چالیس سے زائد قومی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اوسلومیٹ میں شعبہ صحافت اور میڈیا اسٹڈیز کے سربراہ این ہیگے سائمنسن، ملٹی میڈیا جرنلسٹ اور کئی دیگر قابل ذکر شخصیات نے ورکشاپ میں شرکت کی۔

مقررین نے میں اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا کے درمیان فرق،خبروں کی ترسیل کے غیر اخلاقی پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے مختلف چینلز تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

ڈین ہیومینٹینز ایف سی کالج ڈاکٹر الطاف اللہ خان نے ورکشاپ کا افتتاح کیا جس میں مین اسٹریم اور سوشل میڈیا کی اخلاقیات اور دنیا میں جاری سوشل میڈیا ٹرینڈز کے موضوع پر خطاب کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ” سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو موثر انداز میں استعمال کرنے کے لئے آگاہی عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر فراست جبین نے اپنے خطاب میں زبان کی اہمیت اور اردو-انگلش پریس کے امتزاج پر روشنی ڈالی۔

ایف سی کالج یونیورسٹی ماس کمیونیکشن ڈیپارٹمنٹ کی چیرپرسن ڈاکٹر ریچل حسن نے سیشن میں موڈریٹر کے فرائض انجام دیے۔

پہلے دن کا اختتام شماریاتی بریفنگ کے ساتھ ہوا، اس سیشن میں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا کی ترقی کے ساتھ ٹیکنالوجی میں توازن کیسے رکھا جائے۔

دوسرے دن کا آغاز ہیومینٹیز کے ڈین ڈاکٹر الطاف اللہ خان اور معروف اینکر رفعت اللہ خان کے درمیان سوال جواب کے سیشن کے ساتھ ہوا ، اس موقع پر انہوں نے “بحران زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کے اسلوب اور ایک صحافی کے طور پر تجربات” کے موضوع پر روشنی ڈالی۔

اپنی زندگی کے تجربات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے، رفعت اللہ خان نے متعدد عوامل پر گفتگو کی ، انہوں نے صحافیوں کو تنازعات والے علاقوں میں رپورٹنگ کے دوران پیش آنے والے مسائل بارے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

تحقیقی رپورٹنگ میں اپنے سفر کی وضاحت کرتے ہوئےانہوں نے قبائلی اور غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ ان کی تنظیموں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات اور اس کے اثرات بارے گفتگو کی۔

اوسلو یونیورسٹی کی پروفیسر این ہیگے سائمنسن کی طرف سے ایک لائیو سوال جواب کے سیشن کا اہتمام کیا گیا، جس میں انہوں نے شرکاء کو تصاویر کے پیچھے حقیقی معنی کی شناخت کے بارے موثر انداز میں آگاہی دی ۔

ڈاکٹر سویرا مجیب شامی نے مختلف سماجی نقطہ نظر بارے گفتگو کی ، انہوں نے نظم و ضبط ،اعتماد‘کے کردار پر بحی بات کی ، سوشل میڈیا کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے متعدد عوامل پر روشنی ڈالی جنگ کے موضوع اور صحافت کے ساتھ اس کے تعلق کو بھی پروفیسر ایلزبتھ ایڈ نے سیشن کا حصہ بنایا ، موضوع میں پروپیگنڈے کا منظر نامہ بھی بیان کیا گیا ، مختلف کہانیوں کے پہلوئوں بارے وضاحت کی۔

دوسرے روز کا اختتام ڈاکٹر جتن سریواستو نے کیا جہاں انہوں نے صحافت میں امن قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے میڈیا آؤٹ لیٹس کی بات کرتے ہوئے بعض اصطلاحات اور اخلاقیات کی پیروی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔تقریب کے آخری دن ٹیکنالوجی اور سماجی نامناسب رویوں سے نمٹنے کے موضوع پر بحث کی۔

“آن لائن ہراسمنٹ اور سوشل میڈیا” کے عوامل بارے بھی گفتگو کی ہوئی،، جبکہ اس کے بعد ڈاکٹر عدیل احمد نے ڈییجیٹل دور میں تنازعات کا حل” پیش کیا۔

سیشن نے مختلف تصورات پر توجہ مرکوز کی جوڈیجیٹل دور کے مسائل کے تحت آتے ہیں، خاص طور پر جعلی اور متعصب خبروں کے مواد کی تشکیل اور بالخصوص اسکے پھیلاؤ سے متعلق آن لائن سیشن میں بریٹا پیٹرسن نے اظہار خیال کیا۔

تین روزہ ورکشاپ میں عمر فاروقی، معظم علی خان،ڈاکٹر فائزہ عابد، محسن چوہان،سید ثاقب کے علاوہ ملک بھر کے صحافیوں اور اکیڈمیا سمیت ایف سی کالج کے شعبہ ماس کمیونیکشن کی فیکلٹی نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں