تحریک انصاف نے ہمیشہ اداروں کا احترام کیا، شاہ محمود قریشی

لاہور: سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ اداروں کا احترام کیا اور ہر موڑ پر ان کا دفاع کیا، ہمارا لانگ مارچ قانون کے دائرے میں ہو گا۔

پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تمام احتجاج پرامن ہوئے ہیں اور 126 دن کے دھرنے میں ایک شیشہ یا ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا۔ 25 مئی کے قافلے پر حکومت نے تشدد کیا تھا ہم تو پرامن تھے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی نے فیصل واؤڈا کی پریس کانفرنس دکھائی اور اس کے فوری بعد لندن میں پریس کانفرنس ہوئی جس سے پول کھل گیا۔ کل کی پریس کانفرنس لوگوں کو متنفر کرنے کی مذموم کوشش تھی جو ناکام رہی لیکن ہمارا لانگ مارچ قانون کے دائرے میں ہو گا۔ عام شہری عمران خان کے بیانیے کو قبول کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے 2019 کے بعد عرب ممالک سے ملنے والے تحائف ظاہر نہیں کیے، حکومتی ذرائع

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لوگوں سے اپیل کرتا ہوں عمران خان کے لانگ مارچ میں شامل ہوں، کہا جا رہا ہے سیاسی عدم استحکام کسی صورت بھی قبول نہیں ہو گا لیکن ہم تو سیاسی عدم استحکام کے خواہاں ہیں ہی نہیں بلکہ عدم استحکام تو حکومت گرانے کی منصوبہ بندی شروع ہونے سے ہوا جبکہ ہم عدم استحکام کا جمہوری حل پیش کر رہے ہیں جو انتخابات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ذکر کیا گیا کامرہ میں سائفر کا تذکرہ ہوا لیکن وہاں میں اور اسد عمر بھی موجود تھے اور نشست کے دوران جب سائفر کا تذکرہ ہوا تو ہم نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور ہم نے کہا سائفر کے معاملے پر ڈی مارش ہونا چاہیئے۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ سفیر نے اپنی ذمہ داری ادا کی اور سائفر نے اس کے بیان کی ترجمانی کی، سفیر نے کہا سائفر میں دھمکی تھی اور سائفر میں استعمال کی جانے والی زبان سفارتی نہیں تھی۔ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں بھی سائفر پر بحث ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسا کوئی بیانیہ نہیں گھڑیں گے جس سے پاکستان کے تعلقات متاثر ہوں جبکہ تحریک انصاف نے ہمیشہ اداروں کا احترام کیا اور ہر موڑ پر ان کا دفاع کیا۔

پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا بڑا حصہ اداروں کے کردار پر تھا اور عمران خان فوج سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کئی بار کر چکے ہیں۔ عمران خان نے کبھی لندن اور واشنگٹن جا کر اپنی فوج کو بدنام کرنے کی کوشش نہیں کی اور عمران خان نے کبھی نہیں کہا فوج خطے کے لیے خطرہ ہے تاہم عمران خان فوج کے کچھ فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں اور عمران خان کی نظر میں ان کی تنقید بہتری کے لیے ہوتی ہے۔ دونوں طرف کچھ سوچنے کی ضرورت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کے ساتھ معاشی عدم استحکام آیا ہے اور ہمارے خیال میں پاکستان میں شدید ترین سیاسی بحران ہے۔ ملک میں شروع ہونے والے سیاسی بحران کا واحد حل شفاف الیکشن ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ آپ سے یہ کہنا کہ اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں غیر آئینی نہیں اور عمران خان یقین رکھتے ہیں کہ ملک کے دفاع کے لیے مضبوط فوج اہم ترین ہے۔

سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ کوئی بھی ملک فوج کے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن آدھا تیتر آدھا بٹیر نہیں ہو سکتا۔ قوم نے فیصلہ کرنا ہے پاکستان کو جمہوری ملک بنانا ہے یا برما۔

انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کے بعد پاکستان کی قوم نے دو بار اپنا فیصلہ سنایا اور عوام کے اس فیصلے پر سرتسلیم خم کیا جانا چاہیئے تھا۔ ہم سیاستدانوں کی پریس کانفرنس کا تو جواب دے سکتے ہیں لیکن اداروں کو نہیں اور ہم نے تحقیقات کے لیے صدر سے خط لکھوایا اس سے بڑا کون سا عہدہ ہے۔

فواد چودھری نے کہا کہ یہاں جو کمیشن بنتے ہیں ان کی رپورٹ سامنے آتی ہی نہیں اور ارشد شریف کو جو دھمکیاں مل رہی تھیں وہ کسی سے چھپی ہوئی تو نہیں تھیں۔ ارشد شریف پر 16 کیسز بنائے گئے اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے ارشد شریف کو ضمانت دی اور وہ بچ گئے۔ ارشد شریف صرف بولنے کے لیے باہر گیا۔

لانگ مارچ سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ ہمارا جمہوری حق ہے اور اگر یہاں جمہوریت ہے تو یہ نہیں ہو سکتا عوام کا فیصلہ رد ہو۔ حقیقی آزادی کا مارچ کل سے شروع ہو رہا ہے۔ نواز شریف، شہباز شریف اور مریم کے کردار سے سب واقف ہیں اس لیے عوام کو فیصلے کرنے دیں۔

بلاول بھٹو پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انقلابی بلاول لاہور میں کچھ، اسلام آباد جاتا ہے تو کچھ اور ہو جاتا ہے۔ بلاول بھٹو 3 دن سے نوکری کے چکر میں معافی مانگ رہا ہے۔

حماد اظہر نے کہا کہ پچھلے 6 ماہ سے عوام نے بہت کچھ دیکھا ہے اور شریف خاندان کے کیسز میں گواہ خود سے مر جاتے ہیں جبکہ ارشد شریف کے اردگرد ایسا ماحول بنایا گیا کہ اسے ملک چھوڑنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات کروا کر دیکھ لیے عمران خان نہیں ہارا اور عمران خان اکیلا نہیں اس کے ساتھ عوام ہیں۔ ہمارے ادارے بہترین ہیں۔

متعلقہ خبریں