مشروم کے زریعے ڈپریشن پر قابو پانا ممکن

ڈپریشن  کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا، ماہرین نے اپنی نئی تحقیق میں ڈپریشن کے مریضوں کے لیے مشروم کو کو علاج قرار دے دیا۔

برطانوی ماہرین کے مطابق میجک مشرومز میں موجود سائلوسائبن ڈپریشن کو دور کرسکتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے ایک ایم جی، دس ایم جی اور پچیس ایم جی خوراکوں کو یورپ اور شمالی امریکہ کے 10 ممالک کے کل 233 افراد پر آزمایا گیا ، جس میں پچیس ایم جی کی دوا نے بہترین نتائج دیے۔

ان میں سے زیادہ تر گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور ان کی عمریں 40 سال کے لگ بھگ تھیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مطالعات امید افزا ہیں لیکن ان کے دیرپا اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے ابھی یہ تجربات ناکافی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کے 50 فیصد کے قریب مریض ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں، تحقیق

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپریشن ایک دیرپا مسئلہ ہے جس پر 12 ہفتوں سے کہیں زیادہ فالو اپ پیریڈ استعمال کرنا چاہیے، اس لیے مزید تحقیق کے لیے جلد ہی ایک بڑا تجربہ شروع کیا جائے گا کہ ڈپپریشن کو روکنے کے لیے کتنی خوراکوں کی ضرورت ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ دوا کے منظور ہونے میں تین سال لگ سکتے ہیں۔

مشروم کو اس کی خصوصیات کی بنا پر ’میجک مشرومز‘ بھی کہا جاتا ہے۔ قانونی منظوری کے بعد امید ظاہر کی جارہی ہے کہ آئندہ چند سالوں تک اس کی دوا مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے گی۔

اگر قانونی منظوری مل گئی تو امید ظاہر کی جارہی ہے کہ آئندہ چند سالوں تک اس کی دوا مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے گی۔

متعلقہ خبریں