کیا ٹوئٹر پر ویڈیو دیکھنے کے پیسے بھی دینے ہوں گے؟

ایلون مسک نے ٹوئٹر  پربلیو ٹک کی فیس لینے کے ساتھ ساتھ ویڈیوز دیکھنے  کے پیسے چارج کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک خبر کے مطابق  ٹوئٹر  کی ایک اندرونی ای میل میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ٹوئٹر انتظامیہ نے  ایک منصوبے پر کام شروع کیا ہے جس کے مطابق  لوگوں کو سائٹ پر ویڈیوز پوسٹ کرنے کی اجازت دی جائے اور پھر صارفین سے ان کو دیکھنے کے لیے چارج کیا جائے۔

ا خبار کے مطابق ٹوئٹر اس ویڈیو فیچر کو ایک سے دو ہفتے میں لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کا نام “پے والڈ ویڈیو” ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹوئٹرنے اپنے ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کر دیا

اس اقدام کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ تخلیق کار جو پہلے سے ہی  اہم اور مقبول  کلپس پوسٹ کرتے ہیں وہ اپنی اپنی پے وال لگا سکیں گے۔ لوگوں سے ان کی ایکس ریٹیڈ فوٹیج دیکھنے کے لیے کم از کم  ایک ڈالروصول کیا جا سکے گا۔

 ای میل کے مطابق نئے ویڈیو فیچر جس کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا اس کی  وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جب کوئی تخلیق کار ویڈیو کے ساتھ ایک ٹویٹ کمپوز کرے گا تو ٹویٹ میں ویڈیو شامل ہونے کے بعد پے وال کو فعال کر سکتا ہے۔

اس کے بعد وہ قیمتوں کی فہرست میں سے اس کی قیمت کا انتخاب کر سکیں گے جو ایک ، دو ، پانچ یا دس ڈالر تک بھی ہو سکتا ہے۔

ٹوئٹر پرلاک آئیکن  اور ایک پیغام  “ایک ڈالر کے عوض دیکھیں” کے ساتھ۔ ایسے ٹویٹ نظر آئیں گے۔ اس رقم کی ادائیگی سے ویڈیوان لاک ہو جائے گی۔ تخلیق کار سٹرائپ کے ذریعے رقم وصول کرے گا جبکہ ٹوئٹر اس  میں غیر متعینہ رقم لے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ایلون مسلک کے حکم پر بھارت میں ٹوئٹر کے بیشتر ملازمین فارغ

 دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ  ای میل میں اس فیچر سے متعلق سیکیورٹی خدشات کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

اس سے قبل ایلون مسک نے گذشتہ ہفتے ٹوئٹر کا کنٹرول  سنبھالنے کے بعد یہ حکم  جاری کیا تھا کہ “بلیو ٹک” ماہانہ آٹھ ڈالر فیس کے تحت ہر کسی کی دسترس میں ہو گا۔

متعلقہ خبریں