خیبر پختونخوا، انجینئرنگ کے بعد میڈیکل ٹیسٹ فیس میں بھی کمی

پنجاب:میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے انٹری ٹیسٹ نمبرز کا تناسب کم کیے جانیکا امکان

خیبر پختونخوا کی انجینئرنگ یونیورسٹیز میں داخلہ کے لئے ٹیسٹ پیٹرن اور فیسوں میں کمی کے بعد میڈیکل کالجز میں داخلہ لینے کے لئے بھی ٹیسٹ کی فیس میں کمی اور پیپر کا دورانیہ بڑھانے کا اعلان کر دیا گیا۔ میڈیکل ٹیسٹ کی فیس 6ہزار کی بجائے ایک ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جن طلبہ سے پاکستان میڈیکل کمیشن کے تحت منعقد کئے جانے والے ٹیسٹ کے لئے 6 ہزار روپے فیس وصول کی گئی تھی۔

اس میں سے 5 ہزار روپے طلبہ کو خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ذریعے واپس کر دی جائے گی۔ خیبر پختونخوا میں میڈیکل کالجز کے لئے داخلہ ٹیسٹ 13 نومبر کو ایٹا کے زیر اہتمام منعقد ہو رہا ہے۔ صوبائی وزیر کامران بنگش کے مطابق مجموعی طور پر 46 ہزار طلبہ میڈیکل ٹیسٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔

رواں سال ٹیسٹ کا دورانیہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ گزشتہ سال میڈیکل ٹیسٹ کا دورانیہ 180 منٹ تھا جب کہ رواں سال ٹیسٹ کا دورانیہ 210 منٹ کا ہو گا، جبکہ پیپر 200 ایم سی کیوز پر مشتمل ہو گا، پچھلے سال بھی میڈیکل ٹیسٹ کا پرچہ اتنے ہی ایم سی کیوز پر مشتمل تھا۔ خیبر پختونخوا میں ایٹا کے زیر اہتمام میڈیکل کالجز داخلہ ٹیسٹ 7 مقامات پر لی جائے گی۔

امیدواروں کو کاربن کاپی کے بجائے اوریجنل آنسر شیٹ کی سکین کاپی مہیا کی جائے گی، جبکہ ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان 7 دن کے اندر کیا جائے گا ۔

میڈیکل کالجز داخلہ ٹیسٹ کی فیس میں کمی اور دورانیہ بڑھانے کے اقدام کو خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے انقلابی قراردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو آسانیاں فراہم کرنا انکا مشن ہے، جبکہ ٹیسٹ کے لئے بھی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئیں ہیں۔ اس سے پہلے ایٹا کے زیر اہتمام انجینئرنگ ٹیسٹ کی فیس میں بھی کمی کر دی گئی تھی۔

انجینئرنگ ٹیسٹ، فیس اور پیٹرن میں تبدیلی کا فیصلہ

رواں سال اگست کے مہینے میں بھی خیبر پختونخوا ہی کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے ایک پریس کانفرنس کے دوران انجینئرنگ ٹیسٹ کے پیپر پیٹرن اور فیس میں کمی کا اعلان کیا تھا۔ انجینئرنگ ٹیسٹ فیس کو 2 ہزار 500 سے کم کرکے 500 روپے مقرر کیا گیا تھا، 21 ستمبر کو منعقد ہونے والے انجینئرنگ ٹیسٹ میں طلبہ کو 200 کی بجائے 100 سوالات پر مشتمل پرچہ تھمایا گیا تھا۔ جبکہ پیٹرن میں تبدیلی کے ساتھ پیپر کا دورانیہ 120 منٹ مقرر کیا گیا تھا۔

طلبہ کا رد عمل

میڈیکل ٹیسٹ کے لئے تیاریوں میں مصروف طلبہ نے ایک طرف صوبائی وزیر کے فیصلے کو سراہا تو دوسری جانب طلبہ ٹیسٹ کے حوالے سے اٹھائے گئے دیگر اقدامات سے نالاں ہیں۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ پہلے پاکستان میڈیکل کمیشن کے زیر اہتمام ٹیسٹ منعقد کیا جاتا تھا جس کے لئے انہوں نے اُسی پیٹرن کے مطابق بھر پور تیاریاں کی تھیں۔ تاہم اسکے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ٹیسٹ خیبر پختونخوا کے سرکاری ٹیسٹنگ ایجنسی ایٹا کے زیر اہتمام منعقد ہو گا۔ جس کی وجہ سے انکی تیاریوں پر بھی اثر پڑا ہے۔

اب وہ مجبور ہو کئے ایٹا کے پیٹرن کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ طلبہ 6 ہزار فیس میں 5 ہزار روپے کی واپسی کے حوالے سے بھی تذبذب کا شکار ہیں۔

متعلقہ خبریں