سوال ہے کیا سزا یافتہ آدمی فیصلہ کرے گا کہ انتخابات کب ہوں گے، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ لندن میں دو اہم فیصلے کئے جا رہے ہیں، سوال ہے کیا سزا یافتہ آدمی فیصلہ کرے گا کہ انتخابات کب ہوں گے۔

پی ٹی آئی لانگ مارچ کے کارکنان سے ویڈیو خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ ناممکن ہےتصور کرنا ایک مفرور ملزم ملک کے فیصلے کرے گا، شہباز شریف کو نہیں پتہ حساس معاملہ مفرور ملزم سے ڈسکس ہوسکتا ہے۔جس آدمی کا مقصد پیسہ چوری کرنا اور این آر او لینا ہے کیا وہ فیصلے کریگا؟

عمران خان نے کہا کہ آج ہمارے سینیٹرز اورپارلیمنٹیرین نے پٹیشن جمع کروائی ،اعظم سواتی، ارشد شریف اور میرے اوپر حملے کا کیس سپریم کورٹ کے پاس لیکر گئے ہیں،امید ہے چیف جسٹس اس کیس کو سنیں گے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ میں جو شہباز شریف کے ساتھ ہوا ہے وہ ساری قوم کا پتہ ہے،اس نے کہا میں وزیر اعظم ہوں، پیش نہیں ہو سکتا ،قانون نے اس کو جرمانہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 26سال پہلے قانون کی بالادستی کی تحریک شروع کی، آج میں اپنے اوپر قاتلانہ حملے کی ایف آئی درج نہیں کرواسکا،یہ فیصلہ کن وقت ہے کہ ہم ملک کو قانون کی حکمرانی کی طرف لائیں۔ انصاف کے بغیر ملک میں خوشحالی نہیں آسکتی،اگر یہاں خوشحالی لانی ہے تو انصاف لانا ہوگا۔

مزید کہا کہ برطانیہ میں قانون کے سامنے سب برابر ہیں، ہم دنیا میں انصاف انڈیکس میں 129 ویں نمبر پر ہیں، شیر شاہ سوری نے قانون توڑنے والے بڑے ڈاکوں کو پکڑا ،اس نے انصاف قائم کیا اور خوشحالی آگئی۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری آمدنی کم ہو رہی ہے، ہر چیز نیچے جا رہی ہے،جب ملک کی آمدنی کم ہوگی تو ہم قرضے کیسے واپس کریں گے؟ 26سال سے کہہ رہا ہوں دوستی سب سے کرنا چاہتے ہیں،غلامی کسی کی بھی نہیں، اگربھارت مسئلہ کشمیر حل کرناچاہے تو ہم ان سے دوستی کرنے کو تیار ہیں،ہماری فارن پالیسی پاکستان کے لوگوں کے مفادات کی حفاظت نہیں کرتی،ہم چین ،روس اور امریکا سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سائفر کو نیشنل سیکیورٹی، پارلیمنٹ میں رکھا اور صدر مملکت کو بھجوایا، پاکستانی سفیرنے بھی کہا دھمکیاں دی گئیں، ہم کہہ رہے ہیں ہم نے آگے چلنا ہے، 26 سال سے میرے اس بیانیے میں کوئی فرق نہیں، ہم حقیقی آزادی کے سفر پر نکلے ہوئے ہیں۔

ٹیگز :
متعلقہ خبریں