ای سی سی اجلاس، کسان پیکج کی منظوری، عام انتخابات کیلئے رقم فراہم کرنیکی سمری مسترد

فوٹو: فائل

اسلام آباد:  اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے 47 ارب روپے فراہم کرنے کی سمری مسترد کردی ہے۔

پاکستان کا افغان قیادت کے ساتھ فیصلہ کن بات چیت کیلئے جامع ایجنڈے پر غور

ذمہ دار ذرائع نے اس ضمن میں بتایا ہے کہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے 47 ارب روپے فراہم کرنے کی سمری ای سی سی کے اجلاس میں مسترد کی گئی جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کی۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے حکومت سے 47 ارب روپے فراہم کرنے کو کہا تھا۔ ای سی سی نے الیکشن کمیشن کی سمری اائندہ اجلاس تک کے لیے مؤخر کردی ہے۔

ای سی سی کے منعقدہ اجلاس میں 1800 ارب روپے کے کسان پیکج کی منظوری دی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ کاشت کاروں کو 1802 ارب روپے کے زرعی قرضے فراہم کیے جائیں گے۔

سوال ہے کیا سزا یافتہ آدمی فیصلہ کرے گا کہ انتخابات کب ہوں گے، عمران خان

اجلاس میں کیے جانے والے فیصلے کے تحت ڈی اے پی کی بوری کی قیمت 11ہزار250 روپے کی جائے گی،3 لاکھ زرعی ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کیا جائے گا۔ ای سی سی نے وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگری کلچر لون اسکیم کی منظوری دیدی اور ہائی اسپیڈ ڈیزل و گیس کی درآمد پر 16.75 ڈالرز پریمیم کی بھی منظوری دی۔

وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق پریمیم پی ایس او کے علاوہ دیگر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فراہم کیا جائے گا، اجلاس میں میگا سولر منصوبوں کے لیے سیکیورٹی پیکیج معاہدے کی منظوری دی گئی جب کہ سولر منصوبوں کیلئے خصوصی ادائیگیوں اور سہ ماہی انڈیکسیشن کی تجویز مسترد کردی گئی۔

ڈالر کو آزاد چھوڑ کر ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کیا گیا، اسحاق ڈار

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت بلٹ آپریٹ اینڈ ٹرانسفر بنیادوں پر سولر منصوبے لگانا چاہتی ہے۔ اجلاس میں ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس اوراسٹیٹ انجینئرنگ کارپوریشن کی اراضی ہیوی مکینیکل کمپلیکس کو منتقل کرنے کی بھی منظودی دی گئی۔

متعلقہ خبریں