سازشی بیانیے سے پیچھے ہٹنے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا، عمران خان

چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ سازشی بیانیے سے پیچھے ہٹنے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ سائفر موجود ہے۔دوبارہ میری جان لینے کی کوشش کی جائے گی۔

سابق وزیراعظم عمران خان  نے فرانسیسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے  ہوئے کہا ہے کہ لانگ مارچ پر حملہ ہوا،میری دائیں ٹانگ سے 3گولیاں نکالی گئیں۔میں اپنی ٹانگ پر زورنہیں ڈال سکتا،اسے ٹھیک ہونے میں میں 4 ہفتے لگیں گے۔ایک گولی نے میری ٹانگ کی ہڈی کریک کی جو میرے لیے پریشان کن ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارا ایک بہترین تحقیقاتی صحافی جو میری رائے کو بڑھا رہا تھا اسے دھمکایا گیا۔صحافی نے پاکستان چھوڑ دیا اور پھر ان کوکینیا میں قتل کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کو ملنےوالی انمول گھڑی کی قیمت کتنی؟

انہوں نے کہا ہے کہ مجھے راستے سے ہٹانے کے خواہشمندوں کےلیے خطرہ توابھی بھی موجود ہے۔بدقسمتی سے میں سمجھتا ہوں دوبارہ میری جان لینے کی کوشش کی جائے گی۔مجھے اس لیے راستے ہٹانا چاہتاہے ہیں کیونکہ میری جماعت مقبول ہے۔

چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم نے ضمنی الیکشن میں 75 فیصد کامیابی حاصل کی۔ہم اس کے باوجود جیتے جبکہ باقی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی حاصل تھی۔ہم نے شاندار کامیابی حاصل کی اور ہماری مقبولیت میں اضافہ ہوا۔بنیادی طور پر عوام ان مجرموں سے نجات چاہتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کابینہ کے 61 فیصد ممبران پر کرپشن کیس ہیں۔ہمیں عوامی حمایت حاصل ہے۔یہ سمجھتے میں ان کے راستے کی رکاوٹ ہوں لہذا مجھے ہٹایا جائے۔اس لیے میرے نزدیک میری جان کو ابھی بھی خطرہ ہے۔

انہوں نے سائفر ے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سائفر ایک خفیہ دستاویز ہے جو موجود ہے۔امریکا میں ہمارے سفیر اور ڈونلڈ لو کے درمیان گفتگو پر مبنی سائفر تھا۔ڈونلڈ لو سفیر کو کہہ رہاہے عمران خان کو تحریک عدم اعتماد سے ہٹایا نہ تو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ میں سازش کے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹا کیونکہ سائفر موجود ہے۔ سائفر کابینہ اور نیشنل سیکیورٹی کو نسل کمیٹی کے سامنے رکھا۔سائفر چیف جسٹس کے پاس ہے جس پر ہم آزادانہ انکوائری چاہتے ہیں۔سازش بیانیے سے پیچھے ہٹنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا،سوال یہ ہے کہ آگے کیسے بڑھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ کیس: رسیدیں اور تاریخ موجود ہیں، عمران خان

ان کا کہنا ہے کہ میری حکومت کو امریکی سازش کے ذریعے ہٹایا گیا۔ لیکن میں نے اصل میں کہا تھا کہ یہ سب پیچھے رہ گیا۔ مجھے اپنے عوام کے مفاد کے راستے میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔پاکستان کے عوام کا مفاد یہ ہے کہ تمام ممالک سے اچھے تعلقات ہوں۔امریکا سے اچھے تعلقات ہوں کیونکہ وہ سپرپاور ہے۔

متعلقہ خبریں