ہتھیلی کو بطور کارڈ استعمال کرنے کا کامیاب تجربہ

بیجنگ: چینی کمپنی نے ہتھیلی کو بطور کارڈ استعمال کرنے کا کامیاب تجربہ کر لیا۔ جس کے بعد اب جلد کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز ختم ہوجائیں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چینی کمپنی نے لوگوں کی ہتھیلی کو بطور کارڈ استعمال کرکے رقم کی ادائیگی کے کامیاب تجربات کیے۔ کمپنی کے مطابق کئی ماہ سے یہ تجربات جاری تھے اور پہلی مرتبہ چینی شہر گوانگ زو میں اس کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔

چینی کمپنی ٹینسنٹ جس کی ویڈیو چینی ٹک ٹاک ڈوین پر جاری کی گئی ہے۔ جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص اپنی ہتھیلی کے نقوش اسکین کر کے سافٹ ڈرنک حاصل کرتا ہے۔ یہ شخص چینی سوشل میڈیا وی چیٹ سے تعلق رکھتا ہے جو ٹینسنٹ کمپنی کے سہولت استعمال کرنے والا پہلا ادارہ بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کا بڑا فیچر اب پاکستانی صارفین کے لیے بھی

واضح رہے کہ ہتھیلی کے نقوش سے شناخت اور رقم کی ادائیگی کے حامی اسے دیگر بائیو میٹرک نظام سے قدرے بہتر تصور کرتے ہیں تاہم خیال ہے کہ کیونکہ ہتھیلی کے نقوش چرانا یا ان کی نقل بنانا بہت آسان ہوتا ہے۔ اس لیے اب تک آنکھوں کے نقوش کو محفوظ تر خیال کیا جاتا ہے۔

ہتھیلی کے کامیاب تجربے کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ جلد یا بدیر کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز ختم ہو جائیں گے۔

دوسری جانب چینی یونیورسٹی آف ہانگ کانگ میں ڈیٹا سائنس کے پروفیسر ڈیوڈ زینگ کے مطابق چین گزشتہ 20 سال سے ہتھیلی کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہا تھا اور اب اس کا استعمال زیر غور ہے۔

متعلقہ خبریں