عمران خان کا تمام اسمبلیوں سے استعفے دینے کا فیصلہ

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پنجاب اور کے پی کی حکومتیں چھوڑنے اور استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا۔

راولپنڈی جلسے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اس سسٹم کا حصہ نہیں بننا چاہتے جہاں یہ چور اپنے کیسز معاف کروا رہے ہیں۔میں نے وزرائے اعلیٰ سے بھی بات کی ہے، پارلیمانی پارٹی سے بھی مشاورت شروع کر رہا ہوں، آنے والے دنوں میں سب اسمبلیوں سے باہر نکلنے کا اعلان کروں گا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ہم اسلام آباد نہیں جا رہے کیونکہ ملک میں کوئی انتشار نہیں چاہتے۔ہم نے امپورٹڈ حکومت کو کہنا تھا کہ الیکشن کرواؤ، آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہم نے ان سے الیکشن مانگنے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری حقیقی آزادی کی تحریک چلتی رہے گی، جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا معاشی استحکام نہیں آسکتا، معیشت کو بچانے کیلئے الیکشن ہی واحد حل ہیں، الیکشن کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں، یہ ان کو بھی پتہ ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ لندن میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والا ڈرا ہوا ہے، نواز شریف کو پتہ ہے جب الیکشن ہوا تو وہ ہار جائے گا، آصف زرداری کو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، دونوں کے اربوں ڈالر باہر پڑے ہیں، انہیں کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ میری قوم کا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے، کسان برے حال میں ہیں، ملک کے قرضے بڑھتے جا رہے ہیں ،بیرون ملک پاکستانیوں کے پیسے کم ہوتے جا رہے ہیں،ان کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔

خطاب کے آغاز میں عمران خان نے کہا کہ لاہور سے روانہ ہونے لگا تو دو باتیں کہی گئیں، سفر کرنے سے منع کیا گیا، سب نے کہا کہ اپ کی ٹانگ کی حالت ابھی ایسی نہیں کہ سفر کریں۔

انہوں نے کہا کہ  دوسرا کہا گیا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا ہوا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ کنٹینر پر 12گولیاں لگیں، مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،عمران اسماعیل کے کپڑوں سے چار گولیاں نکلیں،گولی لگنے سے فیصل جاوید کا چہرہ زخمی ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں کے مطابق مجھے ٹھیک ہونے میں 3 ماہ لگیں گے۔مجھے موت کی فکر نہیں مگر میری ٹانگ نے میری مشکلات بڑھا دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 26سالہ سیاست میں مجھے ذلیل کرنے کیلئے انہوں نے کوئی موقع نہیں چھوڑا،عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے،کوئی آپ کو ذلیل نہیں کرسکتا، کبھی اتنے لوگ کسی وزیراعظم کیلئے نہیں نکلے جتنے میرے لئے نکلے۔

عمران خان نے کہا کہ آزادملک اوپر پرواز کرتا ہے،غلام صرف اچھی غلامی کرتے ہیں، غلام کی پرواز نہیں ہوتی،صرف آزاد انسان کی پرواز ہوتی ہے، صرف آزاد لوگ بڑے کام کرتے ہیں، آزاد قوم اوپر جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خوشحال ممالک میں عدالتیں انصاف کرتی ہیں، غریب ممالک میں وزیراعظم پیسہ چوری کر کے ملک سے باہر لے جاتے ہیں، غریبوں کا پیسہ چوری ہو کر آف شور اکاؤنٹس میں منتقل کر دیا جاتا ہے، پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں قانون کی حکمرانی نہ ہونا ہے، ملک میں مارشل لاء لگتا تھا تو قانون توڑ کر لگتا تھا،دو خاندانوں نے تیس سال ملک پر حکومت کی لیکن اداروں کو مضبوط نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا مجھ پر کرپشن کا الزام تھا جو ہماری حکومت گرائی گئی، ہماری حکومت کو سازش کے تحت ہٹایا گیا، 2018 میں انہوں نے ملک کا دیوالیہ نکالا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ 2018میں انہوں نے ملک کا دیوالیہ نکالا،ہم نے ملک سنبھالا تو بیرون ملک جا کر دوست ممالک سے پیسے لئے، دوست ممالک سے پیسے مانگنے میں شرم محسوس ہوتی تھی، شوکت خانم کیلئے پیسے اکٹھے کرنے میں مجھے کبھی شرم نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ ملک سنبھالا تو کورونا آگیا جس نے دنیا میں تباہی مچائی، میں نے کہا کہ ہم ملک کو بند نہیں کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ  ساڑھے تین سال میں ایک بار فیل ہوا، میں طاقتور کو قانون کے نیچے نہیں لا سکا،  جن پر کرپشن کیسز تھے انہیں قانون کے نیچے لانے کی بہت کوشش کی،نیب میرے نیچے نہیں تھی، جن کے پاس کنٹرول تھا وہ حکم نہیں دے رہے تھے،  مجھے کہا جاتا تھا احتساب کو بھول جائیں معیشت پر توجہ دیں،  یہ بھی کہا گیا کہ نیب کا قانون بدل دیں،۔

انہوں نے کہا کہ پہلے حکمرانوں نے پرویز مشرف سے این آر او لیا تھا، انہوں نے چلتی حکومت کو گرایا، بار بار سنتے ہیں سائفر ایک ڈرامہ تھا، کہتے ہیں سائفر تو ایک فیک بیانیہ ہے، جو یہ سارے کہہ رہے ہیں جو حکومت گرانے کی سازش کا حصہ تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا نیشنل سیکیورٹی کونسل میں سائفر کو نہیں رکھا گیا تھا؟ ڈونلڈ لونے اسد مجید کو کہا اگر عمران کو نہ ہٹایا تو ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیا یہ سائفرکے اندرنہیں تھا جو نیشنل سیکیورٹی کونسل میں آیا، نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کہا ڈی مارش کرو، یہ سارا سچ ہے اور یہ کہنا سائفرڈرامہ ہے، یہ میری نہیں ہمارے ملک کی توہین ہے، کبھی سنا ہے ایک چھوٹا سا وزیرکسی کوایسے دھمکی دے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ 7 ماہ میں جو کچھ ہوا عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، 7 ماہ پہلے پاکستان کی معیشت 17 سال بعد تیزی سے معیشت ترقی کر رہی تھی، ہمارے دورمیں ریکارڈ 32 ارب ڈالرکی ایکسپورٹ تھی، ہمارے دور میں 6 ہزار 1500 ارب ٹیکس اکٹھا کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دورمیں مہنگائی 14 فیصد اور آج 45 فیصد مہنگائی ہے، سات ماہ میں مہنگائی کے 50 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں، پٹرول، آٹا، گھی، بجلی، دالوں کی 100 فیصد قیمتیں بڑھ چکی ہیں، ہمارے دور میں ڈالر 178 اور آج ڈالر 240 ہے، جو ان چوروں کو لیکر آئے انہوں نے ملک کے ساتھ کیا کیا؟

عمران خان نے کہا کہ ہمارے دورمیں زراعت ترقی اور آج چاول، گنے، کپاس کی کم پیداوارہوئی ہے، آج پاکستان کے قرضوں کا رسک 100 فیصد سے بھی زائد ہوچکا ہے، ہمارے دورمیں قرضوں کا رسک صرف 5 فیصد تھا، سروے کے مطابق 88 فیصد سرمایہ کاروں کے مطابق حکومت کی سمت درست نہیں، ہمارا لوٹا اپوزیشن لیڈربن گیا، اسمبلی بھی ختم ہو گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے میں اپنے لوگ بٹھا کر کیسزمعاف کرا لیے، نیب، ایف آئی اے میں اپنے لوگ بٹھا دیئے، انہوں نے سب سے زیادہ رول آف لا اور ملک کی اخلاقیات کو تباہ کیا، جیلوں میں چھوٹے غریب چور پڑے ہیں، سارے طاقتور بچتے جارہے ہیں اس ملک کا کیا مقصد ہوگا، دوراستے ہے اگرچپ کرکے ناانصافی کوتسلیم کریں گے تو پھر آگے تباہی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ آج انہوں نے بُرے لوگوں کو اوپربٹھا کر امربالمعروف کو ختم کر دیا، ہمارے دور میں نوجوانوں کو ایک امید نظر آرہی تھی۔ 25مئی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئیں، ہمارے کارکن اور ان کے بچوں کو مارا گیا۔

مزید کہا کہ سوال پوچھتا ہوں جن کی ذمہ داری ہے کیا وہ لوگ سوئے ہوئے تھے، کسی نے کچھ نہیں کیا، ڈرٹی ہیری کے دورمیں ظلم ہوا، صحافیوں کو دھمکیاں دی گئیں، ایازامیر، سمیع ابراہیم، معید پیرزادہ، ارشد شریف کے ساتھ جو کچھ ہوا کبھی ایسا نہیں دیکھا، ان صحافیوں کا قصور میرا موقف پیش کرنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاوسزکودھمکیاں دی گئیں، سوشل میڈیا کے نوجوانوں کو گھروں سے اٹھایا گیا، شہباز گل، اعظم سواتی کو ننگا کر کے تشدد کیا گیا، سب کو پتا ہے ارشد شریف کیوں ملک چھوڑکرگیا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن، اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ ہونے کے باوجود ہم ضمنی الیکشن جیتے، مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ادارے کیوں نہیں پرانی غلطیوں سے نہیں سیکھ رہے، ادارہ ترقی تب کرتا ہے جب اپنی غلطیوں سے سیکھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان کے دوران پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے ساتھ انصاف نہیں کیا اور ملک ٹوٹ گیا، ہم نے مشرقی پاکستان سے نہیں سیکھا، آج ہمارے خلاف سب حربے استعمال کیے جارہے ہیں، پنجاب میں ہماری حکومت ہے اور پولیس بے بس ہے، اپنی حکومت ہونے کے باوجود سابق وزیراعظم اپنی ایف آئی آرنہیں کٹواسکا۔

عمران خان نے کہا کہ پولیس والا کہتا ہے مجھے عہدے سے ہٹا دیں، ایف آئی آر درج نہیں کر سکتا، طاقتور لوگوں کو ان کو اتنا خوف ہے، جب تک ملک میں طاقتور قانون کے نیچے اور ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں گے تب تک ملک ترقی نہیں کر سکتا، یہ میرا پاکستان اورمیری فوج ہے، میں چاہتا ہوں میری فوج مضبوط ہو، اگرفوج مضبوط نہیں ہو گی تو دوسرے مسلم ممالک کا حال دیکھ لیں، ہمیں اپنی طاقتور فوج پرفخرہے، اپنی عدلیہ اورفوج پرتعمیری تنقید کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی نہیں جوپیسہ لوٹ کرباہربھاگ جائے، یہ سیاست دان نہیں غیرملکی قبضہ گروپ ہے، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔ کبھی کسی اور ملک کا پاسپورٹ لینے کا نہیں سوچا، چاہتا ہوں ملک حقیقی طور پر آزاد ہو، خون کے آخری قطرے تک اپنے ملک کے لیے لڑوں گا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جتنی بھی پولیس جمع کر لیں جب لاکھوں لوگ اسلام آباد جائیں گے تو کئی انہیں روک نہیں سکتا۔ میں نے اپنی ساری سیاست آئین و قانون کے دائرے میں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں یہاں حکومت پر الیکشن کا پریشر ڈالنے آیا تھا،الیکشن 9 ماہ بعد بھی ہوئے تو جیتنا ہم نے ہی ہے، ملک کو بچانے کیلئے الیکشن ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کا سمندر ہے لوگ ابھی بھی سڑکوں پر پھسے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں