چین برطانوی اقدار و مفادات کیلئے چیلنج ہے، تعلقات کا سنہری دور ختم ہو گیا، برطانوی وزیراعظم

چین برطانوی اقدار و مفادات کیلئے چیلنج ہے، تعلقات کا سنہری دور ختم ہو گیا، برطانوی وزیراعظم

لندن: برطانوی وزیراعظم رشی سوناک نے چین کے حوالے سے اپنے ملک کی پالیسی و حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ نام نہاد تعلقات کا سنہری دور ختم ہو گیا۔

تائیون ریڈلائن ہے، عبور نہیں ہونی چاہیے، شی جن پنگ: امریکہ تنازع نہیں چاہتا، بائیڈن

مؤقر نشریاتی ادارے ’ سی این بی سی‘ کے مطابق بحیثیت وزیراعظم اپنی خارجہ پالیسی کے پہلی مرتبہ خد و خال واضح کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ چین ہماری (برطانیہ) اقدار اور مفادات کے لیے ایک چیلنج ہے۔

یہاں یہ  بات قابل ذکر ہے کہ 2015 میں اس وقت کے برطانوی وزیر خزانہ جارج اسبورنی (George Osborne) نے کہا تھا کہ چین اور برطانیہ مغرب میں ایک دوسرے کے بہترین شراکت دار ثابت ہو سکتے ہیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ رشی سوناک نے جس سنہرے دور کے خاتمے کا اعلان کیا ہے وہ اسی سے متعلق ہو۔

واضح رہے کہ ماہ رواں کے دوران انڈونیشیا کے علاقے بالی میں منعقد ہونے والی جی 20 کانفرنس کے سربراہی اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ برطانوی وزیراعظم رشی سوناک کی طے شدہ ملاقات بھی منسوخ ہو ئی تھی۔

چینی صدر کی اپنے امریکی ہم منصب جوبائیڈن کے ساتھ البتہ تین گھنٹے کی طویل سائیڈ لائن پر ملاقات ہوئی تھی جس میں شی جن پنگ نے واضح طور پر کہا تھا کہ تائیوان چین کی ریڈ لائن ہے جو عبور نہیں ہونی چاہیے۔

برطانوی وزیراعظم رشی سوناک نے اپنی تقریر میں کہا کہ بیجنگ شعوری طور پر ریاستی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کے حصول کی خاطر مقابلہ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پر یہ واضح ہونا چاہیے کہ نام نہاد سنہری دور اس سادہ خیال کے ساتھ کہ تجارت، سماجی و سیاسی اصلاحات کا باعث بنے گی، یکسر ختم ہو چکا ہے۔

ترکیہ سی پیک کا حصہ بنے، چینی دوستوں سے بات کرنے کیلئے تیار ہوں، وزیراعظم

رشی سوناک نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنی پہلی تقریر میں اعتراف کیا کہ ہم عالمی اقتصادی استحکام اور موسمیاتی تبدیلی سمیت دیگر ضروری امور میں چین کی اہمیت کو بالکل نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں اور اسی طرح کینیڈا، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان سمیت دیگر ممالک بھی سمجھتے ہیں۔

اپنے آئندہ کے عزائم کا احاطہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ ان کی قیادت میں ’اسٹیٹس کو‘ کا انتخاب نہیں کرے گا اورنہ اس پر عمل پیرا ہو گا بلکہ اپنے عالمی حریفوں کا مقابلہ بیان بازی کے بجائے مضبوط و طاقتور عملیت پسندی سے کرے گا۔

وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ برطانیہ کو ویسی ہی طویل مدتی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جیسی کہ اس کے عالمی مخالفین و حریف روس اور چین نے اپنائی ہوئی ہے۔

یوکرین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانیہ کے وزیراعظم نے واضح کیا کہ سابق وزرائے اعظم بورس جانسن اور لزٹرس کی پالیسیاں جاری رکھتے ہوئے کیئف کی فوجی امداد برقرار رکھی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس جاری جنگ میں جتنا بھی وقت لگے، ہم یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، آئندہ سال بھی فوجی امداد برقرار رکھیں گے بلکہ فضائی دفاع کے لیے نئی امداد بھی مہیا کریں گے۔

برطانوی وزیراعظم رشی سوناک نے گزشتہ سال بھی اقتصادیات کے حوالے سے بحیثیت وزیر خزانہ چین کے متعلق نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

میڈیا اور سیاسی توپوں کا رخ ٹرمپ کی طرف، جوبائیڈن کو ریلیف مل جائے گا؟

رشی سوناک کے وزیراعظم بننے کے بعد گزشتہ ہفتے ہی لندن کے تقریباً تمام حساس سرکاری عمارات میں نصب چینی ساختہ سیکیورٹی کیمروں پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں