دو سال کی عمر میں بچھڑنے والی خاتون کی 50 سال بعد والدین سے ملاقات

امریکہ میں دو سال کی عمر پراسرار طریقے سے غائب ہونے والی خاتون کی 50 سال کی عمر کے بعد اپنے والدین سے ملاقات ہوئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ مطابق میلیسا ہائی سمتھ نامی خاتون1971 میں لاپتہ ہوگئیں جب وہ صرف 22 ماہ کی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق میلیسا کی والدہ الٹا اپانٹینکو ایک ویٹریس کے طور پر کام کر رہی تھیں اور انہیں بچی کی دیکھ بھال کے لیے ملازمہ کی ضرورت تھی جس کے لیے اس نے اخبار میں اشتہار دیا۔

اپنٹینکو نے ایک ایسی خاتون کو ملازمت پر رکھا جس نے اس سے ذاتی طور پر ملاقات کیے بغیر ملازمت میں دلچسپی ظاہر کی۔

بعد ازاں جب وہ کام پر تھی، اس کے روم میٹ نے میلیسا کو ملازمہ کے حوالے کر دیا جس نے مبینہ طور پر اسے اغوا کر لیا۔

ملیسا کے والدین نے کئی دہائیوں کے بعد بھی اس کی تلاش نہیں چھوڑی۔ رواں سال ستمبر کے مہینے میں بھی انھوں نے یہ تلاش جاری رکھی ہوئی تھی جب ان کو معلوم ہوا کہ میلیسا کو جنوبی کیرولینا میں دیکھا گیا ہے۔

دوسری شادی کرنے پر پہلی بیوی نے شوہر کو اغوا کر لیا

اس دوران میلیسا لاعلم تھی کہ ان کو کوئی تلاش کر رہا ہے۔ جب ان کے خاندان نے ان سے رابطہ کرنے کے لیے فیس بک کا استعمال کیا تو ان کو لگا کوئی ان سے دھوکہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تاہم چھ نومبر کو ’23 اینڈ می‘ نامی ویب سائٹ نے ڈی این اے ٹیسٹ کا نتیجہ دیا تو میلیسا کے بچوں کا ان کے خاندان سے رابطہ ممکن ہوا جس کے بعد ایک ماہر نے ان کو ٹیسٹ کے نتائج کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

بی بی سی کے مطابق میلیسا کے خاندان نے فیس بک پر بیان جاری کیا کہ ’میلیسا کی تلاش صرف اور صرف ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے ممکن ہوئی۔ پولیس، ایف بی آئی یا نجی تفتیش کاروں اور افواہوں کی وجہ سے نہیں۔‘

میلیسا اور ان کے والدین کی 50 سال بعد پہلی ملاقات 26 نومبر کو ہوئی جس کے بعد خاندان کی جانب سے کہا گیا کہ انھوں نے مذید ڈی این اے ٹیسٹنگ قانونی طور پر کروائی اور اس خبر کو جھٹلانے والوں کے لیے سرکاری تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں