ایلن مسک کی کمپنی ایک بار پھر الزامات کی زد میں

کیلیفورنیا: ٹیسلا اور نیورالنک کمپنی کے مالک ایلن مسک کی کمپنی ایک بار پھر الزامات کی زد میں ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایلن مسک کی کمپنی نیورالنک کا مقصد ایک ایسا آلہ تیار کرنا ہے جسے دماغ میں لگایا جا سکے اور دماغی سرگرمی کے ساتھ کمپیوٹر کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ جس پر کمپنی کی جانب سے تجربات جاری ہیں۔

نیورالنک اس وقت “برین مشین انٹرفیس” بنانے کے لیے بندروں پر تجربات کر رہی ہے اور جس کے لیے نہ صرف بندروں کے عضو کاٹے جا رہے ہیں بلکہ وہ ان تجربات کی وجہ سے ہلاک بھی ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئی ٹیکنالوجی، قوت سماعت سے محروم افراد کیلئے خوشخبری

فزیشن کمیٹی فار رسپانسبل میڈیسن (پی سی آر ایم) نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ تفصیلات میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی شہر ڈیوس کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں کیے جانے والے تجربات میں بندر شدید اذیت کا شکار ہیں۔ ادارے کی جانب سے کچھ تفصیلات بھی شیئر کی گئیں جن میں بندروں میں سرجری کے دوران الیکٹروڈ لگائے جانے کا انکشاف کیا گیا۔

پی سی ایم آر کی جانب سے ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے جس میں لیب نوٹس فراہم کیے گئے۔ مقدمے میں مؤقف اپنایا گیا کہ دماغ میں لگائے جانے والے الیکٹروڈ کی وجہ سے جانور انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں اور غیر تصدیق شدہ بائیو گلو کی وجہ سے بندروں کے دماغ کے حصے ناکارہ ہونے سے وہ ہلاک ہوئے۔

متعلقہ خبریں